ذکر حبیب

by Other Authors

Page 338 of 381

ذکر حبیب — Page 338

338 ہوتی ہے تکلیف سے وہ بھی خالی نہیں۔انسان اشرف المخلوقات ہے۔مگر شیر اور قسم کے درندے اس کو کھا جاتے ہیں۔پس کوئی دُکھ سے خالی نہیں۔کسی کو کسی رنگ میں تکلیف ہے۔کسی کو کسی میں۔پس یہ کہنا غلط ہے۔کہ کیوں ایک خاص گروہ کو تکلیف میں رکھا گیا۔کیونکہ تمام مخلوقات کسی نہ کسی طرح دکھ اٹھا رہی ہے۔چڑیا کو کھانے کے لئے باز ہے تو باز کے لئے کوئی اور قسم کی تکلیف ہے۔انسان اگر حیوان کو ذبح کرتا ہے۔تو اس کے لئے اور قسم کی تکلیف ہوگی۔پس ان دُکھوں کے تدارک و تلافی کے لئے دوسرا جہان ہے۔اس عالم کے بعد دوسرا عالم آئے گا۔تو سب کی تلافی ہوگی۔یہ دُنیا دار امتحان ہے۔اگر کوئی کہے کہ ایسا کیوں کیا ؟ تو جواب یہی کافی ہے۔کہ وہ مالک ہے اور مالک کوسب اختیار ہے۔تکلیفیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔انسان کو کئی تکلیفوں سے متکلف کیا گیا ہے خدا کی راہ میں مجاہدہ - مشقت سفر - جان دینا۔اب حیوانوں کو یہ تکلیفیں کہاں ہیں۔انسان تو دُہری تکلیفیں اُٹھاتا ہے۔ایک قضاء وقدر کی تکلیفیں۔اور دوسری شرعی تکالیف۔پھر دیکھو! کہ انسان کے حواس میں تیزی بہت ہے۔وہ دُکھ کو جلدی محسوس کرتا ہے۔حیوانات میں یہ احساس کم ہے۔جیسے حیوانات کو عقل نہیں دی۔ویسا ہی انہیں مستی کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔وہ جو ذبح کے وقت تڑپتا ہے۔تو یہ جسمانی خواص کا تقاضا ہے۔احساس مصائب تو دراصل صرف انسان کے لئے ہے جس کے دماغی قوی بہت زیادہ تیز ہوتے ہیں۔پس یہ نہ سمجھو کہ صرف ایک خاص طبقہ کے لئے ہے۔بلکہ سب کے لئے ہے۔اس لئے خدا کے انصاف پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔پروفیسر جس طرح آپ نے فرمایا ہے۔ان تکالیف کا عوض ملے گا۔کیا ادنی جانوروں کو بھی ملے گا ؟ مسیح موعود : ہاں ہم یقین کرتے ہیں۔کہ اُن کو ملے گا۔پروفیسر: اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا۔کہ حیوانوں کی روح بھی مرنے کے بعد باقی رہیں۔مسیح موعود : ہاں کیوں نہ رہیں ؟ انسان کب سے ہے؟ پروفیسر: آدم - حوا جیحوں وسیحیوں کے درمیان پیدا ہوئے تھے۔کیا امریکہ والے بھی اس آدم کی اولاد ہیں۔جیسا کہ مشہور ہے۔اور عیسائی کہتے ہیں۔کہ ایک آدم کی سب اولاد ہیں ؟ مسیح موعود : ہم اس بات کے قائل نہیں۔کہ ایک ہی آدم تھا۔کئی آدم تھے۔اِنّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً سے بھی یہی ظاہر ہے۔کہ آدم کسی کا جانشین تھا۔ہم اس بات کی پیروی نہیں