ذکر حبیب

by Other Authors

Page 337 of 381

ذکر حبیب — Page 337

337 مسیح موعود : جب محبت کا لفظ بولا جاتا ہے کہ خدا محبت ہے تو وہ لوگ غلطی کرتے ہیں ، جو خدا میں بھی محبت کا وہی مفہوم سمجھتے ہیں۔جو انسان میں سمجھتے ہیں۔یاد رکھو کہ انسان میں جو کچھ محبت یا غضب ہے۔اسی طرح کی محبت یا غضب خدا کی طرف منسوب نہیں کر سکتے۔انسان جو کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کے فراق سے اُسے صدمہ پہنچتا ہے۔ماں بچے سے محبت کرتی ہے۔اگر بچہ مرجائے تو اُسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔کسی کا محبوب جدا ہو جائے تو اس کے فراق میں تڑپتا ہے۔پس کیا خدا کو بھی تکلیف پہنچتی ہے؟ ہرگز نہیں۔پس خدا پر اس لفظ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جسے کسی پر غضب آتا ہے۔وہ خود بھی ایک قسم کی سزا پا لیتا ہے۔اس کے اندر سوزش سی پیدا ہو جاتی ہے۔راحت و آرام جس میں تھا اس وقت جاتا رہتا ہے۔اس لئے ہم ان لفظوں کو ان معنوں کے ساتھ پسند نہیں کرتے۔یہ ان لوگوں کا کلام ہے جو انسان کی حالت پر قیاس کرتے ہیں۔ہم تو خدا کی ایسی صفات کو ایسا ہی بیشل قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ وہ اپنی ذات میں بیشل ہے۔پس ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ جو اس کی رضا کے مطابق چلتا ہے اس پر وہ خوش ہے اور یہ لفظ جو ہیں کہ خدا محبت ہے، ہم نہیں استعمال کرتے نہ یہ استعمال کے لائق ہیں کیونکہ محبت کا لفظ سوز و گداز رکھتا ہے۔غضب کرنے پر بھی وہ تکلیف میں آتا ہے۔استعمال دکھ پہنچاتا ہے پس ایسے ناقص لفظ ایسے ناقص معنوں کے ساتھ استعمال نہیں کرتے۔( یہاں یہ نکتہ حکیم الامت کا فرمودہ قابل یاد رکھنے کے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں کہیں محبت اور غاضب کا لفظ نہیں یعنی بطور اسم فاعل وصفت مشتبہ نہیں۔ہاں فعلی رنگ میں ہے۔واللہ يحب المتقين۔ایڈیٹر بدر ) پروفیسر نے اس پر زیادہ تشریح چاہی کہ اعلیٰ طبقے کا جانو را د نے کو کیوں کھاتا ہے؟ مسیح موعود : میں نے اسی بنا پر کہہ دیا ہے کہ جو اس کا رحم ہے یا غضب۔ہم اس کی ایسی تشریح نہیں کر سکتے۔جیسا انسانوں کے متعلق کرتے ہیں۔اس کا وسیع نظام پر از حکمت ہے۔اس کے نظام میں اپنی حد سے زیادہ دست اندازی نہیں کر سکتے۔انسان اس کے دقیق مصالح میں دخل دے تو یہ بات اچھا نتیجہ لانے والی نہیں۔ہم یہ کہتے ہیں کہ اد نے طبقے کے جانوروں کے لئے اگر تکالیف کا حصہ ہے تو اعلیٰ کے لئے بھی ہے۔یہ عالم مختصر اور فانی ہے۔بعد اس کے وسیع عالم ہے۔جس میں اللہ نے ارادہ کیا ہے کہ ہر ایک قسم کی خوشحالی دی جاوے۔پس جو یہاں دُکھ اٹھائے گا۔وہ اگلے جہان میں اس کا عوض پائے گا۔پھر یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے۔کہ اعلیٰ درجے والوں کو بھی تکلیف