ذکر حبیب — Page 336
336 نے دئیے۔ان سے وہ اس قدر خوش ہوا کہ اس نے بہت الحاح کے ساتھ درخواست کی کہ اُسے ایک دفعہ پھر حضرت کی ملاقات کا موقع دیا جائے۔چنانچہ حضرت کے حکم سے اس کو اجازت دی گئی کہ پیر کے دن تین بجے وہ آئے۔ٹھیک وقت پر پروفیسر صاحب اور ان کی بیوی حضرت کی ملاقات کے واسطے آئے۔اُن کے ساتھ ان کا چھوٹا لڑکا بھی تھا۔اس مکالمہ کی رپورٹ درج ذیل ہے۔معمولی مزاج پرسی کے بعد سلسلہ کلام یوں شروع ہوا۔ذات وصفات اللہ تعالیٰ پروفیسر : آیا آپ خدا کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی شخصیت رکھتا ہے اور اس میں جذبات ہیں یا ایسا خدا ہے۔جو ہر جگہ موجود ہے۔مسیح موعود : ہم اللہ تعالیٰ کو لامحدود سمجھتے ہیں۔خدا ہر جگہ موجود ہے۔ہم اس کی نسبت یہی سمجھتے ہیں کہ جیسا وہ آسمان پر ہے ویسا ہی وہ زمین پر بھی ہے اور اس کے دو قسم کے تعلق پائے جاتے ہیں۔ایک اس کا عام تعلق جوکل مخلوقات سے ہے۔دوسرا وہ تعلق اس کا جو خاص بندوں کے ساتھ ہوتا ہے۔جب وہ بندے اپنے نفس کو پاک کر کے اس کی محبت میں ترقی کرتے ہیں۔تب وہ اُن سے ایسا قریب ہو جاتا ہے کہ جیسا کہ وہ ان کے اندر ہی سے بولتا ہے۔یہ اس میں ایک عجیب بات ہے کہ باوجود دُور ہونے کے نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دُور ہے۔وہ بہت ہی قریب ہے۔مگر پھر بھی یہ نہیں کہہ سکتے۔جس طرح ایک جسم دوسرے سے قریب ہوتا ہے اور وہ سب سے اوپر ہے۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے اور بھی ہے۔وہ سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے۔مگر پھر بھی وہ عمیق در عمیق ہے۔جس قدر انسان کچی پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔اسی قدر اس وجود پر اطلاع ہو جاتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ جو نہایت درجہ قدوس ہے اپنے تقدس کی وجہ سے ناپا کی کو پسند نہیں کرتا۔چونکہ وہ رحیم کریم ہے اس لئے نہیں چاہتا کہ انسان ایسی راہوں پر چلیں جن راہوں پر ان کی ہلاکت ہے۔پس یہ صفات (جس کے لئے جذبات کا لفظ بولا گیا ہے ) ہیں جن کی بناء پر یہ مذہب کا سلسلہ جاری ہے۔کیا حد انجب ہے؟ پروفیسر : اگر خدا بالکل محبت اور انصاف ہی ہے۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک مخلوق کا گذارہ دوسرے کی ہلاکت پر ہے۔ایک چڑیا کو باز کھا لیتا ہے۔پس کیوں باز میں یہ کیفیت پائی جاتی ہے کہ وہ دوسر۔رے کو کھا وے جو اس کی محبت وانصاف کا تقاضا نہیں ہوسکتا۔