ذکر حبیب

by Other Authors

Page 319 of 381

ذکر حبیب — Page 319

319 باب سولھواں قرب الہی کے مراتب ثلاثہ یہ ایک بیش قیمت مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پرانی تحریروں میں سے یہاں درج کیا جاتا ہے: قرب الہی کے مراتب ثلاثہ کی تفصیل معلوم کرنے کے واسطے تین قسم کی تشبیہ سے کام لینا پڑتا ہے۔اول قسم قرب کی خادم اور مخدوم کی تشبیہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔والذین امنوا اشد حبا اللہ یعنی مومن جن کو دوسرے لفظوں میں بندہ فرمانبردار کہہ سکتے ہیں۔سب چیز سے زیادہ اپنے مولیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ جیسے ایک نوکر با اخلاص و با صفا و با وفا بوجہ مشاہدہ احسانات متواترہ و انعامات متکاثره و کمالات ذاتیہ اپنے آقا کی اس قدر محبت واخلاص و یک رنگی میں ترقی کر جاتا ہے۔جو بوجہ ذاتی محبت کے جو اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔اپنے آقا سے ہم طبیعت اور ہم طریق ہو جاتا ہے اور اس کی مرادات کا ایسا ہی طالب اور خواہاں ہوتا ہے۔جیسے آقا خود اپنی مرادات کا خواہاں ہوتا ہے۔اسی طرح بندہ وفادار کی حالت اپنے مولیٰ کریم کے ساتھ ہوتی ہے یعنی وہ بھی اپنے خلوص اور صدق وصفا میں ترقی کرتا کرتا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے وجود سے بلکلی فنا ہو کر اپنے مولا کریم کے رنگ میں مل جاتا ہے۔آنجا کہ مجھے نمک میریزد ہر پرده که بود از میان برخیزد ایس نفس دنی که صد ہزارش دہن است خاموش شود چو عشق شود انگیزد چوں رنگ خودی رود کے را از عشق یارش ز کرم برنگ خویش آمیزد سوالیسا خادم جو ہمرنگ اور ہم طبیعت مخدوم ہو رہا ہے۔طبعی طور پر ان سب باتوں سے متنفر ہو جا تا ہے جو اس کے مخدوم کو بُری معلوم ہوتی ہے۔وہ نافرمانی کو اس جہت سے نہیں چھوڑتا۔کہ اس پر سزا لا زم ہوگی۔اور تعمیل حکم اس وجہ سے نہیں کرتا کہ اس سے انعام ملے گا اور کوئی قول یا فعل اس کا اپنا اخلاق کا ملہ کے تقاضا سے صادر نہیں ہوتا۔بلکہ محض اپنے مخدوم حقیقی کی اطاعت کی وجہ سے جو اس کی طبیعت میں رچ گئی ہے، صادر ہوتا ہے اور بے اختیار اسی کی طرف اور اس کی مرضیات کی طرف کھینچا جاتا ہے۔وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال کا پھیر نا خواہ نخواہ واجب نہیں جانتا۔اور نہ طمانچہ کی جگہ طمانچہ مارنا اُس کو کوئی ضروری ہوتا ہے۔بلکہ وہ اپنے یک رنگی دل سے فتویٰ پوچھتا ہے کہ اس