ذکر حبیب

by Other Authors

Page 311 of 381

ذکر حبیب — Page 311

311 ہے۔رہا ہوں۔چونکہ میرا کام مشکل اور بعض دفعہ نا امید کرنے والا ہے۔اس واسطے یہ خبر پا کر مجھے فرحت حاصل ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب اور آپ میرے واسطے دُعاء مانگتے ہیں۔جب میں ہندوستان گیا۔تو مجھے یقین تھا کہ ہمارے مسلمان بھائی میری حتی الوسع مدد کریں گے۔میرے خیال میں یہ بات نہ آ سکتی تھی کہ مسلمان کہلا کر کوئی شخص میری مخالفت کرے گا۔اور میری کوششوں میں روک ڈالے گا۔میں نے ان کو صاف کہہ دیا تھا کہ بہت سے عیسائی میری مخالفت کریں گے۔اور مجھے نا کام کرنے کے لئے الزام لگائیں گے۔اور ہر قسم کی مخالفت کریں گے۔میں نے انہیں سمجھا دیا تھا کہ ان عیسائیوں کی باتوں کو نہ سننا۔اور یہ سوچنا کہ اُن کا مدعا کیا ہے۔لیکن جونہی یہاں کے عیسائیوں کی مخالفت کی خبر ہند میں پہنچی۔وہاں کے بے ایمان مسلمان میرے مخالف ہو گئے اور ہر طرح مجھے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی۔میرے ساتھ جو وعدے اُنہوں نے کئے تھے۔اُن سب کو بھلا دیا۔اور اپنے اقراروں کو توڑنے کے لئے صرف بہانے کے طلب گار ہوئے۔لیکن اب مجھے سمجھ آئی کہ اُن لوگوں نے ایسا کیوں کیا ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ اُن کا مذہبی علم صرف سطحی ہے۔سچائی کی روشنی اُن میں نہیں پائی جاتی۔اور مقدس نبی صلعم کی وفاداری اُن کے دلوں میں نہیں خدائے مطلق جانتا تھا کہ میرے لئے کس امر میں بہتری ہے۔اور اُس نے وہی کیا جو میرے لئے بہتر تھا۔غالباً میرے لئے یہ امر مفید نہ تھا کہ وہ لوگ میرے ساتھ وفاداری کا تعلق قائم رکھتے۔تو با وجود میری کوششوں کے یہاں بھی اسلام کی ایک ایسی ہی بگڑی ہوئی شکل قائم ہو جاتی جیسی کہ ان لوگوں میں ہے۔مجھے ابھی ایک نو مسلم کا خط ملا ہے جس کی بابت میں خیال کرتا ہوں۔کہ وہ اسلام کے کارآمد ہوگا۔اس کا نام جیمز ایل راجرز ہے۔وہ مدت تک پادری کا کام کرتا رہا ہے۔لیکن اُسے عیسائیت پرشک آنے لگے۔اور پھر اس مذہب کو چھوڑنے کا ارادہ کیا۔اس نے میری ایک تقریر پڑھی تھی جس سے اس کا شوق اور بھی بڑھا۔بعض اسلامی کتابیں اس نے پڑھیں اور سچائی کا نو ر اُس کے دل میں بیٹھ گیا۔اب اُس نے اپنے آپ کو مسلمان مشہور کر دیا ہے۔اور وہ زیادہ علم حاصل کرنے کا شوق رکھتا ہے۔اس میں کچھ شک نہیں۔کہ اس کے پہلے دوست اس کے مخالف ہو جائیں گے۔لیکن اُسے اس بات کی کچھ پروانہیں وہ بڑا سرگرم معلوم ہوتا ہے۔اور مجھے یقین ہے کہ وہ ہمارے لئے بہت کام کرے گا۔مجھے یہ بات اچھی معلوم ہوتی ہے کہ آپ اُسے خط لکھیں اور کچھ کتابیں بھیج کر اسے فائدہ پہنچائیں اور میگزین کے پرچے جو آپ نے مجھے ارسال کئے تھے۔وہ سب میں تقسیم کر چکا ہوں۔اور میرے پاس سوائے اپنی کتابوں کے اور کچھ نہیں کہ میں بھیجوں۔وہ اس ملک میں مجھ سے بہت دور رہتا ہے۔دو دفعہ میں اُسے خط لکھ چکا ہوں اور