ذکر حبیب

by Other Authors

Page 288 of 381

ذکر حبیب — Page 288

288 خط نمبر ۳۱ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمَ حضرت اقدس مرشد نا و مهدینا مسیح موعود مہدی معہود السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ - حسب الحکم تحقیقات کی گئی کرم داد اور ایک طالب علم عمر پندرہ سال شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے بدھ کی شام کو چاند دیکھا تھا۔پہلے کرم داد نے دیکھا۔اور کرم داد کے دکھانے سے اس طالب علم نے دیکھا۔کہتے ہیں کہ چاند بار یک دُھندلا اور شفق کے قریب تھا۔اور بھی کئی لوگ مسجد میں موجود تھے۔مگر باوجود ان کے بتانے کے اور کسی کو نظر نہ آیا۔اور جلد غائب ہو گیا۔یہ اُن کے بیانات ہیں۔اُن کا تحریری صفی بیان شامل ہذا ہے۔جنتریوں میں بالاتفاق پہلی تاریخ جمع لکھی ہے۔لاہور، امرتسر، بٹالہ، گورداسپور بھی میں نے خطوط لکھے ہیں۔آئندہ جو حضور فیصلہ فرماویں۔ایک اور عرض سیالکوٹ سے مولوی مبارک علی صاحب کا خط تاکیدی آیا ہے۔کہ میری گواہی کی اُن کو سخت ضروری ہے۔اور تاریخ ۲۵ فروری مقرر ہے۔جس کے واسطے مجھے ۲۳ کو یہاں سے چلنا چاہئیے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ حضرت اقدس نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ میں چلا جاؤں۔سو میں طیار ہوں۔سُنا گیا ہے کہ سیالکوٹ میں تاحال کچھ کچھ طاعون بھی ہے لیکن چھاؤنی سیالکوٹ میں نہیں ہے اور مولوی مبارک علی صاحب کا مکان بھی چھاؤنی میں ہے۔پس اس صورت میں مجھے کہاں رہنا مناسب ہوگا۔والسلام اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ حضور کی جوتیوں کا غلام عاجز محمد صادق عفی عنه ۲۰ فروری ۱۹۰۴ء آپ مناسب ہے کہ ایک دن کے لئے ہو آویں۔دل تو نہیں چاہتا کہ آپ جاویں۔خیر ہو آ دیں۔مگر شہر میں ہرگز نہیں جانا چاہئیے۔کرم داد کی شہادت میں ابھی شک ہے۔امرتسر ، لاہور سے شہادت آجائے تو بہتر ہے۔بسا اوقات بادل کا ٹکڑہ خیال کے غلبہ سے ہلال معلوم ہوتا ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ