ذکر حبیب — Page 289
289 خط نمبر ۳۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمَ حضرت اقدس مرشد نا و مهدینا مسیح موعود مہدی معہود اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ - قادیان کے اکثر حصوں سے مدرسہ میں طالب علم جمع ہوتے ہیں۔اور دن بھر خلط ملط رہتا ہے۔چونکہ گاؤں کے بعض حصوں میں بیماری کا زور ہے۔اس واسطے اگر حضور مناسب خیال فرماویں۔تو میرا خیال ہے کہ مدرسہ ایک ہفتہ کے لئے بند کر دیا جاوے۔والسلام حضور کی جونیوں کا غلام عاجز محمد صادق عفی عنہ ۲۹ / مارچ ۱۹۰۴ء اَلسَّلامُ عَلَيْكُمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔میرے نزدیک تو مناسب ہے کہ دس روز تک ان کو رخصت دی جاوے۔امید کہ دس اپریل ۱۹۰۴ء تک تغیر موسم ہو جاوے گا۔اور اس عرصہ تک انشاء اللہ طاعون نائو دہو جائے گی۔واللہ اعلم۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ خط نمبر ۳۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ حضرت اقدس مرشد نا و مهدینا مسیح موعود مہدی معہود السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ - گذشتہ تجویز کے مطابق مدرسہ یکم مئی کو گھلنا چاہیئے۔مگر تاحال شہر کی صورت ایسی نظر نہیں آتی کہ لڑکوں کو واپس بلا نا مناسب ہو۔اس واسطے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مدرسہ کچھ دن کے لئے اور بند کیا جائے۔اور ابھی سے اس امر کی اطلاع طلباء کو بذریعہ ڈاک کر دی جائے۔ورنہ دو تین روز تک طلباء واپس آنے شروع ہو جائیں گے۔بعد اس کے کہ شہر میں بالکل امن ہو جائے۔تین چار روز مدرسہ کی صفائی وغیرہ کے واسطے بھی مطلوب ہوں گے۔لہذا مناسب معلوم ہوا کہ مدرسہ ۱۵ رمئی تک اور بند کیا جائے۔اور طلباء کو اطلاع کر دی جائے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے بھی میں نے مشورہ کر لیا ہے۔ان کی بھی یہی رائے ہے۔پھر جو حکم حضور کا ہو۔والسلام حضور کی جو نیوں کا غلام عا جز محمد صادق عفی عنه ۲۴ را پریل ۱۹۰۴ء