ذکر حبیب — Page 14
14 ابھی تک احمدیت کا امتیازی نام بھی ہمارے لئے تجویز نہیں ہوا تھا۔امرتسر کے کسی معزز نے حضرت مسیح موعود اور آپ کے خدام کی دعوت کی اور اُس میں مولوی احمد اللہ کی بھی دعوت کی۔دعوی نبوت و محد ثیت دعوت کے موقع پر سلسلہ گفتگو میں مولوی صاحب نے حضرت صاحب کے سامنے یہی مسئلہ پیش کیا کہ آپ کی بعض تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔اس لئے لوگوں کو ٹھو کر لگتی ہے۔حضرت صاحب نے اس کی تشریح فرمائی کہ میری مراد اس سے کیا ہے۔جس پر ان مولوی صاحب نے کہا کہ اچھا آپ تحریر کر دیں کہ آپ کی تحریرات میں جہاں کہیں نبوت کا لفظ ہے وہ ایسا نہیں کہ جو ختم نبوت کے منافی ہو اور اس سے مراد محد محیت ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ بیشک میں لکھ دیتا ہوں۔چنانچہ اُسی وقت حضور نے ایک تحریر لکھ کر مولوی صاحب کو دے دی جو کہ اُنہوں نے اپنے پاس رکھ لی تا کہ ان لوگوں کو دکھائے جو اس وجہ سے حضرت صاحب پر کفر کا فتویٰ لگاتے تھے۔انہی دنوں میں ایک دن بعض شریر لوگ مخالف مولویوں کے بہکانے سے اُس مکان پر حملہ کرنے آگئے جہاں پر ہم ٹھیرے ہوئے تھے اور مکان کے اوپر زنانہ میں گھسنا چاہتے تھے۔مگر چند احمد یوں نے جو ساتھ تھے بڑی ہمت سے سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر اُن لوگوں کو روکا اور بعد میں پولیس کے پہنچ جانے سے وہ لوگ منتشر ہوئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آ گئے۔چنانچہ کپورتھلہ سے محمد خاں صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھیرے رہے۔گرمی کا موسم تھا اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چار پائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیئٹر میں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیڑ چلے گئے تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تا کہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔اس کے سوا اور کچھ نہیں۔فرمایا منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے۔مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے اور اس سے معلومات حاصل ہوتے ہیں۔میں نے کہا کہ حضرت صاحب کا کچھ نہ فرمانا یہ بھی ایک