ذکر حبیب — Page 261
261 اُن دنوں قاری سرفراز حسین صاحب جاپان پہنچے۔اور انہوں نے وہاں سے ہندوستان کے اخباروں کو خط لکھے۔کہ یہ خبر بالکل غلط ہے۔یہاں کوئی کانفرنس ہونے والی نہیں۔اس واسطے یہ بات درمیان ہی میں رہ گئی۔جب میں پہلے پہل ہجرت کر کے قادیان آیا تو برابر ایک سال تک میرا اور میرے اہل و عیال کا کھانا دونوں وقت لنگر سے آتا رہا۔میں نے کئی بار حضرت کی خدمت میں عرض کی۔کہ چونکہ اب میں یہاں ملازم ہوں۔اور صورت مہمانی کی نہیں ہے۔اس لئے میرے واسطے مناسب ہے کہ میں اپنے کھانے کا خود انتظام کروں۔مگر حضرت صاحب نے اجازت نہ دی۔ایک سال کے بعد جب میں نے ایسا رقعہ لکھا۔اور اس میں میں نے یہ اصرار کیا کہ میں اس واسطے اپنا انتظام علیحدہ کرنا چاہتا ہوں کہ میرا بوجھ جولنگر پر ہے۔وہ خفیف ہو کر مجھے ثواب حاصل ہو۔اس کے جواب میں حضرت صاحب نے مجھے لکھا کہ چونکہ آپ بار بار لکھتے ہیں، اس واسطے میں آپ کو اجازت دیتا ہوں۔اگر چہ آپ کے لئے لنگر سے کھانا لینے کی صورت میں بھی آپ کے ثواب میں کوئی کمی نہ تھی۔“ جن ایام میں میں دفتر کونٹنٹ جنرل لاہور میں ملازم تھا۔اور بعض دینی خدمات کے خیال سے یا صرف حضرت صاحب کی ملاقات کے شوق میں بار بار قادیان آتا تھا۔بلکہ بعض مہینوں میں ایسا ہوتا کہ ہرا تو ار میں قادیان آ جاتا۔ان ایام میں عموماً حضرت صاحب مجھے واپسی کے وقت دو روپے مرحمت فرمایا کرتے تھے۔اور فرماتے تھے کہ آپ کی اس دینی خدمت میں ہم بھی ثواب لینا چاہتے ہیں۔اُن ایام میں دوروپے میں لاہور قادیان کی آمد و رفت ہو جاتی تھی۔الحکم نمبر ۲۳ جلد۷ مورخه ۲۴ / جون ۱۹۰۳ء 66 مفتی محمد صادق صاحب کو فرمایا : جبکہ انہوں نے مسٹروب کا ایک خط سُنایا کہ ان کو لکھ دو کہ عمر گذر جاتی ہے۔جو کرنا ہے ، اب کر لو۔دن بدن قومی کمزور ہوتے جاتے ہیں۔دس برس پہلے جو قوی تھے ، وہ آج کہاں ہیں۔گذشتہ کا حساب کچھ نہیں۔آئندہ کا اعتبار نہیں۔جو کچھ کرنا ہو آ دمی کو موجودہ وقت کو غنیمت سمجھ کر کرنا چاہئیے اب اسلام کی خدمت کر لو۔اول واقفیت پیدا کرو، کہ ٹھیک اسلام کیا ہے۔اسلام کی خدمت جو شخص درویشی اور قناعت سے کرتا ہے۔وہ ایک معجزہ اور نشان ہو جاتا ہے۔جو جمعیت کے ساتھ کرتا ہے۔اس کا مزا نہیں آتا۔کیونکہ تو کل علی اللہ کا پورا لطف نہیں رہتا۔اور جب تو کل پر کام کیا جائے۔اللہ مدد کرتا ہے اور یہ باتیں رُوحانیت سے پیدا ہوتی ہیں۔جب روحانیت انسان کے اندر پیدا ہو، تو وہ وضع بدل دیتا ہے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح صحابہ کی وضع بدل دی۔یہ