ذکر حبیب — Page 249
249 کے کچھ نہیں ہوسکتا اور جو لوگ اس طرح دینی خدمات میں مصروف ہوئے ہیں۔وہ یا درکھیں کہ وہ خدا پر کوئی احسان نہیں کرتے۔جیسا کہ ہر ایک فصل کے کاٹنے کا وقت آ جاتا ہے۔ایسا ہی مفاسد کے دُور کرنے کا اب وقت آ گیا ہے۔تثلیث پرستی حد کو پہنچ گئی ہے۔صادق کی تو ہین و گستاخی انتہاء تک کی گئی ہے۔رسول اللہ کی قدر مکھی اور زنبور جتنی بھی نہیں کی گئی۔زنبور سے بھی آدمی ڈرتا ہے اور چیونٹی سے بھی اندیشہ کرتا ہے۔مگر حضرت نبی کریم کو بُرا کہنے میں کوئی نہیں جھجکا۔کذبوا بایاتنا کے مصداق ہو رہے ہیں۔جتنا منہ اُن کا کھل سکتا ہے۔اُنہوں نے کھولا۔اور منہ پھاڑ پھاڑ کر سب وشتم کیا۔اب وہ وقت واقعی آگیا ہے۔کہ خدا ان کا تدارک کرے۔ایسے وقت میں وہ ہمیشہ ایک آدمی کو پیدا کرتا ہے۔ولن تجد لسنت اللہ تبد یلا۔وہ ایسے آدمی کو پیدا کرتا ہے جو اس کی عظمت وجلال کے لئے بہت ہی جوش رکھتا ہو۔باطنی مدد کا اُس آدمی کو سہارا ہوتا ہے۔دراصل سب کچھ خدا تعالیٰ آپ کرتا ہے۔مگر اُس کا پیدا کرنا صرف ایک سنت کا پورا کرنا ہوتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے۔خدا نے عیسائیوں کو قرآن کریم میں نصیحت کی تھی۔کہ اپنے دین میں غلو نہ کریں۔پر اُنہوں نے اس نصیحت پر عمل نہ کیا۔اور پہلے وہ صرف ضالین تھے۔اب مضلین بھی بن گئے۔خدا کے صحف قدرت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بات حد سے گذر جاتی ہے تو آسمان پر تیاری کی جاتی ہے۔یہی اس کا نشان ہے کہ یہ تیاری کا وقت آ گیا ہے۔بچے نبی ، رسول، مجدد کی بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ وقت پر آوے۔ضرورت کے وقت آوے۔لوگ قسم کھا کر کہیں کیا یہ وقت نہیں کہ آسمان پر کوئی تیاری ہو۔مگر یا درکھو کہ خدا سب کچھ آپ کرتا ہے۔ہم اور ہماری جماعت اگر سب کے سب حجروں میں بیٹھ جاویں۔تب بھی کام ہو جاوے گا۔اور دجال کو زوال آ جاوے گا۔تلک الايام نداولھا۔اس کا کمال بتا تا ہے کہ اب اس کے زوال کا وقت ہے۔اس کا ارتفاع ظاہر کرتا ہے۔کہ اب وہ نیچا دیکھے گا۔اُس کی آبادی اُس کی بربادی کا نشان ہے۔ہاں ٹھنڈی ہوا چل پڑی ہے۔خدا کے کام آہستگی کے ساتھ ہوتے ہیں۔اگر ہمارے پاس کوئی دلیل بھی نہ ہوتی۔تو پھر بھی مسلمانوں کو چاہئیے تھا کہ دیوانہ وار پھرتے اور تلاش کرتے۔کہ مسیح اب تک کیوں نہیں آیا۔یہ کسر صلیب کے لئے آیا ہے۔ان کو چاہئیے نہیں تھا کہ یہ اس کو اپنے جھگڑوں کے لئے بلاتے۔اُس کا کام کسر صلیب ہے۔اور اسی کی زمانہ کو ضرورت ہے۔اور اسی واسطے اس کا نام مسیح موعود ہے۔اگر ملانوں کو نوع انسان کی بہبودی مدنظر ہوتی۔تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتے۔ان کو سوچنا چاہیے تھا کہ ہم نے فتویٰ لکھ کر کیا بنا لیا ہے۔جس کو خدا نے کہا کہ ہو جاوے اس کو کون کہہ سکتا ہے کہ نہ ہو دے۔یہ ہمارے مخالف بھی ہمارے نوکر چاکر ہیں۔کہ مشرق ومغرب میں ہماری بات کو پہنچا دیتے ہیں۔ابھی ہم نے سُنا ہے کہ گولڑے والا پیر ایک کتاب ہمارے برخلاف