ذکر حبیب — Page 248
248 چاہتا ہے کہ اُس کا جلال ظاہر ہو۔نماز میں جو سُبْحَانَ رَبِّي العَظیم اور سُبْحَانَ رَبِّي الأَعْلَى کہا جاتا ہے۔وہ بھی خدا کے جلال کے ظاہر ہونے کی تمنا ہے۔خدا کی ایسی عظمت ہو کہ اس کی نظیر نہ ہو۔نماز میں تسبیح و تقدیس کرتے ہوئے یہی حالت ظاہر ہوتی ہے کہ خدا نے ترغیب دی ہے۔کہ طبعا جوش کے ساتھ اپنے کاموں سے اور اپنی کوششوں سے دکھاوے کہ اس کی عظمت کے برخلاف کوئی شے مجھ پر غالب نہیں آسکتی۔یہ بڑی عبادت ہے جو اس کی مرضی کے مطابق جوش رکھتے ہیں۔وہی مرید کہلاتے ہیں اور وہی برکتیں پاتے ہیں۔جو خدا کی عظمت اور جلال اور نقدیس کے واسطے جوش نہیں رکھتے۔ان کی نمازیں جھوٹی ہیں۔اور ان کے سجدے بیکار ہیں جب تک خدا کے لئے جوش نہ ہو۔یہ سجدے صرف منتر جنتر ٹھہریں گے جن کے ذریعہ سے یہ بہشت کو لینا چاہتا ہے۔یاد رکھو۔کوئی جسمانی بات جس کے ساتھ کیفیت نہ ہو۔فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ خدا کو قر بانی کے گوشت نہیں پہنچتے۔ایسے ہی تمہارے رکوع اور سجو د بھی نہیں پہنچتے۔جب تک ان کے ساتھ کیفیت نہ ہو۔خدا کیفیت کو چاہتا ہے۔خدا اُن سے محبت کرتا ہے۔جو اس کی عزت اور عظمت کے لئے جوش رکھتے ہیں۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ ایک باریک راہ سے جاتے ہیں۔اور کوئی دوسرا ان کے ساتھ نہیں جاسکتا۔جب تک کیفیت نہ ہو۔انسان ترقی نہیں کر سکتا۔گویا خدا نے قسم کھائی ہے کہ جب تک اُس کے لئے جوش نہ ہو کوئی لذت نہیں دے گا۔ہر ایک آدمی کے ساتھ ایک تمنا ہوتی ہے۔پر مومن نہیں بن سکتا جب تک ساری تمناؤں پر خدا کی عظمت کو مقدم نہ کر لے۔ولی قریب اور دوست کو کہتے ہیں۔جو دوست چاہتا ہے۔وہی یہ چاہتا ہے۔تب یہ ولی کہلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا - و ما خلقت الجن والانس الاليعبدون چاہیے کہ یہ خدا کے لئے جوش رکھے۔پھر یہ اپنے ابنائے جنس سے بڑھ جائے گا۔خدا کے مقرب لوگوں میں سے بن جائے گا۔مُردوں کی طرح نہیں ہونا چاہئیے کہ مُردہ کے منہ میں ایک ھے ایک طرف سے ڈالی جاتی ہے تو دوسری طرف سے نکل جاتی ہے۔اسی طرح شقاوت کے وقت کوئی چیز ا چھی ہو ، اندر نہیں جاتی۔ایک مصلح کا وقت یا درکھو! کوئی عبادت اور صدقہ قبول نہیں جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے لئے جوش نہ ہو، ذاتی جوش نہ ہو۔جس کے ساتھ کوئی ملونی ذاتی فوائد اور منافع کی ہو بلکہ ایسا ہو کہ خود بھی نہ جانے ، کہ یہ جوش میرے اندر کیوں ہے۔بہت ضرورت ہے۔کہ ایسے لوگ بکثرت پیدا ہوں۔مگر سوائے خدا کے ارادہ