ذکر حبیب — Page 246
246 کشف قبور پھر فرمایا۔کہ کچھ مشکل امر نہیں ہے، اگر ہم چاہیں تو لوقا پر توجہ کریں۔اور اس سے سب حال دریافت کریں۔مگر ہماری طبیعت اس امر سے کراہت کرتی ہے کہ ہم اللہ کے سوائے کسی اور کی طرف توجہ کریں۔خدا تعالیٰ آپ ہمارے سب کام بناتا ہے۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ جو کشف قبور لئے پھرتے ہیں۔یہ سب جھوٹ اور لغو اور بیہودہ بات ہے۔اور شرک ہے۔ہم نے سُنا ہے کہ اس طرف ایک شخص پھرتا ہے اور اس کو بڑا دعویٰ کشف قبور کا ہے۔اگر اس کا علم سچا ہے۔تو چاہئیے کہ وہ ہمارے پاس آئے۔اور ہم اس کو ایسی قبروں پر لیجائیں گے۔جن سے ہم خوب واقف ہیں۔مگر یہ سب بیہودہ باتیں ہیں۔اور اُن کے پیچھے پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔سعید آدمی کو چاہیے کہ ایسے خیالات میں اپنے اوقات کو خراب نہ کرے۔اور اس طریق کو اختیار کرے۔جو اللہ اور اس کے رسول اور اُس کے صحابہ نے اختیار کیا۔گدی نشینان اس کے بعد صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے ایک اشتہار پڑھا۔جو کہ اُن کے بھائی صاحب نے اپنے سلسلہ کے عرس کے واسطے مریدین کو دیا ہے۔اس میں ہر قسم کے کھانوں اور ہر قسم کے کھیل تماشوں اور ناچ رنگوں اور آتش بازیوں کا نقشہ بڑی مصفا عبارت اور رنگین فقروں میں کھچا ہوا تھا۔اس پر گدی نشینوں کے حالات پر افسوس ہوتا رہا۔اور مولوی بُرہان الدین صاحب نے اپنے مشاہدہ کی چند گدیوں اور ان کی مجلسوں کا نقشہ کھینچ کر احباب کو خوش کیا۔چونکہ اس میں سرود سے حظ اُٹھانے اور سرور لینے کا ذکر تھا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان میں ایک ملکہ احظاظ کا ہوتا ہے کہ وہ سرور سے حفظ اُٹھاتا ہے۔اور اُس کے نفس کو دھو کہ لگتا ہے۔کہ میں اس مضمون سے سرور پا رہا ہوں۔مگر دراصل نفس کو صرف حظ درکار ہوتا ہے۔خواہ اس میں شیطان کی تعریف ہو یا خدا کی۔جب یہ لوگ اس میں گرفتار ہو کر فنا ہو جاتے ہیں تو ان کے واسطے شیطان کی تعریف یا خدا کی۔سب برابر ہو جاتی ہے۔آئندہ ملنے والے اس پر آج کا سیر ختم ہوا۔لیکن کل کے سیر میں سے ایک بات رہ گئی تھی۔جس کو اب عرض کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ابھی ہمارے مخالفوں میں سے پہلے سے ایسے آدمی بھی ہیں۔جن کا ہماری جماعت میں شامل ہونا مقدر ہے۔وہ مخالفت کرتے ہیں۔پر فرشتے ان کو دیکھ کر ہنستے ہیں۔کہ تم بالآخر انہی لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے۔وہ ہماری مخفی جماعت ہے۔جو کہ ہمارے ساتھ ایک