ذکر حبیب — Page 232
232 سے ہند و ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں۔اور ایک دفعہ الہام ہوا ہے کرشن رو در گوپال تیری مہما ہو۔تیری استنی گیتا میں موجود ہے۔رودر کے معنے نذیر اور گوپال کے معنے بشیر کے ہیں۔“ شانِ امت محمدیہ فرمایا ” عیسائیوں نے جو شور مچایا تھا کہ عیسی مُردوں کو زندہ کرتا تھا۔اور وہ خدا تھا۔اس واسطے غیرت الہی نے جوش مارا۔کہ دنیا میں طاعون پھیلائے اور ہمارے مقام کو بچائے تا کہ لوگوں پر ثابت ہو جائے کہ اُمت محمدی کی کیا شان ہے۔کہ احمد کے ایک غلام کی اس قدر عزت ہے۔اگر عیسی مُردوں کو زندہ کرتا تھا۔تو اب عیسائیوں کے مقامات اس بلا سے بچائے۔اس وقت غیرتِ الہی جوش میں ہے۔تا کہ عیسی کی کسرشان ہو۔جس کو خدا بنایا گیا ہے۔چه خوش ترانه زد این مطرب مقام شناس که درمیان غزل قول آشنا آورد قرآن شریف نے یہود کا رد کیا قرآن شریف اور احادیث میں جو حضرت عیسی کے نیک اور معصوم ہونے کا ذکر ہے۔اس سے یہ مطلب نہیں کہ دوسرا کوئی نیک یا معصوم نہیں۔بلکہ قرآن شریف اور حدیث نے ضرور تا یہود کے منہ کو بند کرنے کے لئے یہ فقرے بولے ہیں۔کہ یہو دنعوذ باللہ مریم کو زنا کا رعورت ، اور حضرت عیسی کو ولدالزنا کہتے تھے۔اس لئے قرآن شریف نے ان کا ذب کیا کہ وہ اس کہنے سے باز آویں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی برکات فرمایا ” حضرت رسول کریم کے ہزاروں جسمانی برکات بھی تھے۔آپ کے جُبہ سے بعد وفات آپ کے لوگ برکات چاہتے تھے۔بیماریوں میں لوگوں کو شفا دیتے تھے۔اور بارش نہ ہوتی تو دُعاء کرتے تھے۔اور بارش ہو جاتی تھی۔ایک لاکھ سے زیادہ آپ کے اصحابی تھے۔بہتوں کی جسمانی تکالیف آپ کی دُعاؤں سے دُور ہو جاتی تھیں۔عیسی کو نبی کریم کے ساتھ کیا نسبت ہو سکتی ہے جس کے ساتھ چند آدمی تھے۔ان کا حال بھی انجیلوں سے ظاہر ہے۔کہ وہ کس مرتبہ رُوحانیت کے تھے۔“ اس زمانہ کا فرعون اور ابو جہل فرمایا ” ابوجہل اُس اُمت کا فرعون تھا کیونکہ اُس نے بھی نبی کریم کی چند دن پرورش کی تھی۔