ذکر حبیب — Page 216
216 جماعت کے غیر کے پیچھے نمازمت پڑھو۔بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے۔اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔دیکھوڑ نیا میں رُوٹھے ہوئے ، اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے۔تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لئے ہے۔تم اگر ان میں ملے جلے رہے۔تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے ، وہ نہیں رکھے گا۔پاک جماعت جب الگ ہو ، تو اس میں ترقی ہوتی ہے۔“ معراج کی حقیقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کی بابت کسی نے سوال کیا۔فرمایا۔”سب حق ہے معراج ہوئی تھی۔مگر یہ فانی بیداری اور فانی اشیاء کے ساتھ نہ تھی۔بلکہ وہ اور رنگ تھا۔جبرئیل بھی تو رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا۔اور نیچے اترتا تھا۔جس رنگ میں اُس کا انتر نا تھا۔اُسی رنگ میں آنحضرت کا چڑھنا ہوا تھا۔نہ اُترنے والا کسی کو اُتر تا نظر آتا تھا نہ چڑھنے والا کوئی چڑھتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔حدیث شریف میں جو بخاری میں ہے آیا ہے۔ثم استیقظ۔یعنی پھر جاگ اُٹھے۔“ طوفان نوح کی حقیقت حضرت نوح کی کشتی کا ذکر تھا۔فرمایا ”بائیبل اور سائنس کی آپس میں ایسی عداوت ہے۔جیسی کہ دوسو کنیں ہوتی ہیں۔بائیبل میں لکھا ہے کہ وہ طوفان ساری دنیا میں آیا۔اور کشتی تین سو ہاتھ لمبی اور پچاس ہاتھ چوڑی تھی اور اس میں حضرت نوح نے ہر قسم کے پاک جانوروں میں سے سات جوڑے اور ناپاک میں سے دو جوڑے ہر قسم کے کشتی میں چڑھائے۔حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اوّل تو اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کیا۔جب تک رسول کے ذریعہ سے اس کی تبلیغ نہ کی ہو۔اور حضرت نوح کی تبلیغ ساری دُنیا کی قوموں تک کہاں پہنچی تھی۔جو سب غرق ہو جاتے۔دوم اتنی چھوٹی سی کشتی میں جو صرف تین سو ہاتھ لمبی اور ۵۰ ہاتھ چوڑی ہو۔ساری دُنیا کے جانور بہائم چرند پرند سات سات جوڑے یا دو دو جوڑے کیونکر سما سکتے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب میں تحریف ہے اور اس میں بہت سی غلطیاں داخل ہو گئی ہیں۔تعجب ہے کہ بعض سادہ لوح علماء اسلام نے بھی ان باتوں کو اپنی کتابوں میں درج کر لیا ہے۔مگر قرآن شریف ہی ان بے معنی باتوں سے پاک ہے۔اس پر ایسے اعتراض وارد نہیں ہو سکتے۔اس میں نہ تو کشتی کی لمبائی چوڑائی کا ذکر ہے۔اور نہ