ذکر حبیب — Page 8
8 دستر خوان پر ہوتی اس میں سے کچھ ایک روٹی پر رکھ کر کسی مہمان کو دیتے - میری عادت تھی کہ میں یہ سبب محبت دستر خوان پر حضرت کے قریب بیٹھنے کی کوشش کرتا۔میں دیکھتا تھا کہ حضور کے کھانے کی مقدار بہت کم ہوتی اور چند نوالوں سے زیادہ نہ ہوتی۔ایک دفعہ ایک نو مسلم ( خا کی شاہ نام ) جو پہلے اسلام سے عیسائی ہوا تھا اور عیسائیوں میں مناد رہا۔اُس نے قادیان سے واپسی پر کہیں شکایت کی کہ مجھے کھانا اچھا نہیں ملتا رہا۔جب یہ بات حضرت کی خدمت میں عرض ہوئی تو فرمایا کہ میں تو اُسے اپنے آگے سے بھی اُٹھا کر دے دیا کرتا تھا۔مسجد چینیاں میں نماز جمعہ غالباً ۱۸۹۳ء کا واقعہ ہے کہ میں لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہمرکاب تھا۔نماز جمعہ کے لئے آپ مسجد چینیاں میں تشریف لے گئے اور نماز پڑھنے کے بعد فوراً تشریف لے آئے۔میں بھی حضور کے ساتھ تھا۔رجسٹر بیعت اُن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بیعت کرنے والوں کا ایک رجسٹر رہا کرتا تھا جس میں کہ بیعت کرنے والوں کے نام، ولدیت ، سکونت وغیرہ اپنے ہاتھ سے درج کیا کرتے تھے۔بعد میں وہ رجسٹر پیر سراج الحق صاحب کے سپر د ہوا تھا۔مگر افسوس ہے کہ پیر صاحب سے وہ رجسر گم ہو گیا۔تپہلی رات کے چاند کی مثال ابتدائی دنوں میں ایک دفعہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام سے عرض کیا کہ لوگ دریافت کرتے ہیں کہ مہدی موعود اور مسیح کی آمد پر اسلام کی فتح کی پیشگوئیاں جو درج ہیں، وہ مرزا صاحب کے وقت پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بہتیرے لوگ آنکھیں ملتے رہتے ہیں مگر انہیں پہلی تاریخ کا چاند دکھائی نہیں دیتا۔مولوی محمد حسین کا تکبیر میں اس وقت جموں میں حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں موجود تھا جب مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں پہنچا۔جس میں بٹالوی صاحب نے