ذکر حبیب

by Other Authors

Page 213 of 381

ذکر حبیب — Page 213

213 واسطے بھیجا جاوے۔اول تو سب باتوں ، کیفیتوں اور حالات کو انسان لکھ ہی کب سکتا ہے۔پھر اگر لکھا بھی جاتا ہے۔تو اصل لفظ سارے کے سارے بعینہ کہاں محفوظ رہتے ہیں۔بعض دفعہ حضرت اقدس کی بات کا صرف مطلب ہی یا د رہتا۔جس کو میں اپنے لفظوں میں لکھ لیتا تھا۔اور بعض دفعہ حضرت کے الفاظ بعینہ یاد بھی رہتے تھے۔یا اکثر ساتھ ساتھ لکھ لئے جاتے تھے۔مگر بہر حال وہ بات کہاں جو موجود میں حاصل ہوتی ہے۔حاضر و غائب کیونکر یکساں ہو سکتے ہیں۔اپنا حرج کر کے امام کی خدمت میں اکثر آنے والے اور اپنے دنیوی فوائد کو مقدم رکھ کر گھر میں بیٹھ رہنے والے کیونکر برا بر ہو سکتے ہیں۔میرے دوستو! اُٹھو کمر ہمت چُست کرو۔دُنیا کے خیالات کو لات مارو۔دُعا مانگو کہ امام کی خدمت میں اکثر رہنے کی تمہیں توفیق حاصل ہو۔اب میں ڈائری شروع کرتا ہوں۔ڈائری حافظ محمد یوسف ۱۹ جولائی ۱۹۰۱ ء۔حافظ محمد یوسف صاحب کا ذکر آیا کہ بعض باتوں پر اعتراض کرتے تھے۔فرمایا ”ان کو تو سرے سے سب باتوں سے انکار ہے۔جبکہ قرآن شریف نے صداقت نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لو تقول والی دلیل پیش کی ہے۔حافظ صاحب اس سے انکار کرتے ہیں تو پھر کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم ) اگر تو اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر لوگوں کو سنائے۔اور اس کو میری طرف منسوب کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔حالانکہ وہ خدا کا کلام نہ ہو تو تو ہلاک ہو جائے گا۔یہی دلیل صداقت نبوت محمدیہ مولوی آل حسن صاحب اور مولوی رحمت اللہ صاحب نے نصاری کے سامنے پیش کی تھی، تو وہ اس کا جواب نہ دے سکے۔اور اب یہی دلیل قرآنی ہم اپنے دعوی کی صداقت میں پیش کرتے ہیں۔حافظ صاحب اور ان کے ساتھی اکبر بادشاہ کا نام لیتے ہیں۔مگر یہ ان کی سراسر غلطی ہے۔تقول کے معنے ہیں۔کہ جھوٹا کلام پیش کرنا۔اگر اکبر بادشاہ نے ایسا دعویٰ کیا تھا۔تو اس کا کلام پیش کریں جس میں اُس نے کہا ہو۔کہ مجھے خدا کی طرف سے یہ یہ الہام ہوئے ہیں۔ایسا ہی روشن دین جالندھری اور دوسرے لوگوں کا نام لیتے ہیں۔مگر کسی کے متعلق یہ نہیں پیش کر سکتے۔کہ اُس نے کون سے جُھوٹے الہامات شائع کئے ہیں۔اگر کسی کے متعلق ثابت شدہ معتبر شہادت کے ساتھ حافظ صاحب یا ان کے ساتھ یہ ثابت کر دیں کہ اُس نے جھوٹا کلام خدا پر لگایا۔حالانکہ خدا کی طرف سے وہ کلام نہ ہو۔اور پھر ایسا کرنے پر اس نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے