ذکر حبیب — Page 204
204 کچی لذت سوال ہوا کہ خواہشات کی طرف لوگ جلد جھک جاتے ہیں۔اور ان سے لذت اُٹھاتے ہیں۔جن سے خیال ہوسکتا ہے کہ ان میں بھی ایک تاثیر ہے۔فرمایا : د بعض اشیاء میں نہاں در نہاں ایک ظل اصلی شے کا آجاتا ہے۔وہ ھے طفیلی طور پر کچھ حاصل کر لیتی ہے۔مثلاً راگ اور خوش الحانی۔لیکن دراصل سچی لذت اللہ تعالیٰ کی محبت کے سوا اور کسی شے میں نہیں ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ دوسری چیزوں سے محبت کرنے والے آخر اپنی حالت سے تو بہ کرتے اور گھبراتے اور اضطراب دکھاتے ہیں۔مثلاً ایک فاسق اور بد کار سزا کے وقت اور پھانسی کے وقت اپنے فضل سے پشیمانی ظاہر کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کوایسی استقامت عطاء ہوتی ہے کہ وہ ہزار ایذائیں دیئے جائیں ، مارے جائیں قتل کئے جائیں ، وہ ذرا جنبش نہیں کھاتے۔اگر وہ ھے جو اُنہوں نے حاصل کی ہے، اصل نہ ہوتی ، اور فطرت انسانی کے مناسب نہ ہوتی ، تو کروڑوں موتوں کے سامنے ایسے استقلال کے ساتھ وہ اپنی بات پر قائم نہ رہ سکتے۔یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ فطرت انسانی کے نہایت ہی قریب یہی بات ہے۔جو ان لوگوں نے اختیار کی ہے۔اور کم از کم قریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار آدمیوں نے اپنے سوانح سے اس بات کی صداقت پر مہر لگا دی ہے۔“ دنیا میں جنت فرمایا: ”آئندہ زندگی میں مومن کے واسطے بڑی تجلی کے ساتھ ایک بہشت ہے۔لیکن اس دنیا میں بھی اس کو ایک مخفی بخت ملتی ہے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ دنیا مومن کے لئے بجن یعنی قید خانہ ہے ، اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ ابتدائی حالت میں جبکہ ایک انسان اپنے آپ کو شریعت کی حدود کے اندر ڈال دیتا ہے۔اور وہ اچھی طرح اس کا عادی نہیں ہوتا۔تو وہ وقت اس کے لئے تکلیف کا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ لا مذہبی کی بے قیدی سے نکل کر نفس کے مخالف اپنے آپ کو احکام الہی کی قید میں ڈال دیتا ہے۔مگر رفتہ رفتہ وہ اس سے ایسا انس پکڑتا ہے۔کہ وہی مقام اس کے لئے بہشت ہو جاتا ہے۔اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جو قید خانہ میں کسی پر عاشق ہو گیا ہو۔پس کیا تم خیال کرتے ہو۔کہ وہ قید خانہ سے نکلنا پسند کرے گا۔“