ذکر حبیب

by Other Authors

Page 201 of 381

ذکر حبیب — Page 201

201 ہیں۔لیکن اگر خشک ملا کی طرح یہ کہا جاوے کہ ہر حالت اور ہر مقام میں کچی ہی اینٹ لگائی جاوے۔تو یہ بھی حرام ہے۔انما الاعمال بالنيات عمل نیت پر موقوف ہیں۔ہمارے نزدیک بعض حالات میں پکی کرنا درست ہے۔بعض جگہ سیلاب آتا ہے۔بعض جگہ قبر میں سے میت کو گتے اور بجھ وغیرہ نکال لے جاتے ہیں۔مُردے کے لئے بھی ایک عزت ہوتی ہے۔اگر ایسے وجوہ پیش آجا دیں تو اس حد تک کہ نمود اور شان نہ ہو۔بلکہ صدمے سے بچانے کے واسطے قبر کا پختہ کرنا جائز ہے۔اللہ اور رسول نے مومن کی لاش کے واسطے بھی عزت رکھی ہے۔ورنہ اگر عزت ضروری نہیں۔تو غسل دینے کفن دینے خوشبو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔مجوسیوں کی طرح جانوروں کے آگے پھینک دو۔مومن اپنے لئے ذلت نہیں چاہتا۔حفاظت ضروری ہے۔جہاں تک نیت صحیح ہے۔خُدا تعالی مواخذہ نہیں کرتا۔دیکھو مصلحت الہی نے یہی چاہا۔کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے پختہ گنبد ہوں۔اور کئی بزرگوں کے مقبرے پختہ ہیں۔مثلاً نظام الدین ، فرید الدین ، قطب الدین معین الدین رحمۃ اللہ علیہم۔یہ سب صلحاء تھے۔“ محرم میں رسومات سے بچو ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ محرم کے دنوں میں امامین کی رُوح کو ثواب دینے کے واسطے روٹیاں وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں ؟ فرمایا ” عام طور پر یہ بات ہے کہ طعام کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ شرک کی رسومات نہیں چاہئیں۔رافضیوں کی طرح رسومات کا کرنا جائز نہیں ہے۔“ حالت بیعت ایک شخص کا سوال پیش ہوا۔کہ اگر آپ کو ہر طرح سے بزرگ مانا جاوے۔اور آپ کے ساتھ صدق اور اخلاص ہو۔مگر آپ کی بیعت میں انسان شامل نہ ہو وے۔تو اس میں کیا حرج ہے۔فرمایا۔وو بیعت کے معنے ہیں اپنے تئیں بیچ دینا۔اور یہ ایک کیفیت ہے، جس کو قلب محسوس کرتا ہے۔جبکہ انسان اپنے صدق اور اخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہو جا وے، تو وہ بیعت کے لئے خود بخود مجبور ہو جاتا ہے۔اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جاوے، تو انسان سمجھ لے۔کہ ابھی اس کے صدق اور اخلاص میں کمی ہے۔“