ذکر حبیب

by Other Authors

Page 180 of 381

ذکر حبیب — Page 180

180 آج صبح حضرت اقدس نے ایک الہام سُنایا۔اور اُس پر اس قدر خوشی ظاہر کی جو میں بیان نہیں کر سکتا۔اور فرمایا۔اسے کوئی شخص بجز حسن ظن قبول نہیں کر سکتا۔اور میں جانتا ہوں کہ کبھی عمر بھر یہ لفظ میرے دیکھنے پڑھنے میں نہیں آیا۔اور حکم دیا کہ سب جو یہاں ہیں اُسے لکھ رکھو۔کہ یہ کوئی عظیم الشان نشان ہے۔اور فرمایا کہ جلی قلم سے لکھ کر مسجد میں چسپان کر دو۔چنانچہ مسجد مبارک میں چسپان کیا گیا ہے اور وہ الہام یہ ہے۔غَثَمَ - غَثَمَ - غَلَمَ - لَهُ - رَفَعَ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ دفعةً ـ یہ اگلی تشریح اُس مشکل لفظ کی ہے۔حضرت نے اس کا بہت اہتمام فرمایا ہے۔“ بعض الہامات - میری فروری ۱۸۹۸ء کی نوٹ بک کے ایک صفحہ پر ذیل کا نوٹ لکھا ہے۔اُس وقت میں لاہور میں تھا۔الہامات حضرت ( مرزا) صاحب ( منقول از ) خط مولوی عبد الکریم صاحب ( مرحوم) یکم فروری ۱۸۹۸ء ( ا ) إِنَّ الله لا يغير ما بقوم حتَّى يُغَيِّرُوا ما بانفُسِهِمْ۔(۲) إِنَّه أوى القرية۔(۳) إِنَّى مع الرّحمنِ اليْكَ بغتةً۔(۴) إِنَّ الله موهن كيد الكافرين۔قادیان آنے کی ضرورت فرمایا لوگ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ تو کہہ جاتے ہیں۔کہ دین کو دُنیا پر ترجیح دوں گا۔لیکن یہاں سے جا کر اس بات کو بُھول جاتے ہیں۔وہ کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اگر وہ یہاں نہ آویں گے۔دُنیا نے اُن کو پکڑ رکھا ہے۔اگر دین کو دُنیا پر ترجیح ہوتی تو وہ دنیا سے فرصت پا کر یہاں آتے۔“ ( منقول از خط خواجه کمال الدین صاحب یکم فروری ۱۸۹۸ء) لفظ گا ٹو کی تعبیر جب میں لاہور دفتر اکونٹنٹ جنرل میں ملازم تھا۔اور مزنگ میں رہا کرتا تھا۔اُن ایام میں میں نے ایک خواب دیکھا۔کہ ایک شخص جس کا کا لو نام ہے۔ہمارے زنانخانہ میں بے تکلف اندر آ گیا ہے اور میری بیوی نے اُس سے پردہ نہیں کیا۔ظاہر ہے کہ ایسی حالت ایک غیور مر د کے واسطے کہاں