ذکر حبیب — Page 176
176 ہماری جماعت کو نئی تو بہ کے ساتھ نئی زندگی حاصل ہے۔سب قو میں ہمارے ساتھ دشمنی رکھتی ہیں۔ہمارا ہمدردصرف ایک ہی رہ گیا ہے۔یعنی ہما را خدا۔ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی کتاب سے یہ ثابت نہیں کہ آدمی قبروں پر بیٹھ کر اُن سے فیض لے۔انسان کو چاہیے کہ امن کا راستہ اختیار کرے۔اولیاء اللہ ایک طرح زندہ ہیں۔مگر زندگی کے یہ معنے نہیں کہ دیوار کے پیچھے سے دیکھ سکتے ہیں۔مرنے کے بعد توسیع مدارج ہو جاتا ہے۔مگر کوئی انسان خدا نہیں بن جا تا۔حضرت یعقوب کے متعلق لکھا ہے۔کے پرسیدزاں گم کردہ فرزند کہ آے روشن گہر پیر خرد مند ز مصرش بُوئے پیراہن شمیدی چرا در چاه کنعانش نه دیدی بگفت احوالِ ما بَرق جهان است گہے بر طارم اعلیٰ نشینم گہے بر پشتِ پائے خود نہ بینم فرمایا : ہم نے خُدا کے قول نحن اقرب اليه من حبل الورید کو خود آزمایا۔ہم بات کرتے ہیں وہ جواب دیتا ہے۔ہماری جماعت کے کئی آدمی بھی اس میں شامل ہیں۔خدا پر غیر ممکن نہیں کہ وہ اُن پر الہام کا دروازہ کھول دے۔انسان کو چاہیے کہ کسی انسان پر توقع نہ رکھے۔سب بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہئیے۔جب ہمارے والد کی وفات کے ایام قریب آئے۔تو ہم لاہور چیف کورٹ کے کسی مقدمہ میں گئے ہوئے تھے۔وہیں خواب میں دیکھا کہ اُن کی وفات کے ایام قریب ہیں۔بعد میں اُن کی بیماری کی خبر ملی۔ہفتہ کا دن اور دو پہر کا وقت تھا۔ڈیوڑھی میں میں لیٹا ہوا تھا۔اور جمال کشمیری میرے پاؤں دبا رہا تھا۔الہام ہوا۔والسماء والطارق۔جس کے معنے ہیں قسم ہے آسمان کی ، اور قسم ہے اُس حادثہ کی جو غروب آفتاب کے بعد پڑے گا۔ہم انسان کے رگ جان سے بھی زیادہ اُس کے قریب ہیں۔