ذکر حبیب — Page 173
173 خوش مزاجی جائز ہے مگر چاہیے کہ تمہارے اشغال نا پاک نہ ہوں۔اس دُنیا میں عارف اس طرح زندگی بسر کرتا ہے جس طرح کسی پر خون کا مقدمہ چل رہا ہوا اور وہ ہر وقت اس فکر میں ہے کہ اُسے کیا حکم سنایا جاتا ہے۔جب وہ تفریح بھی کرتا ہے تو اُس کی تفریح میں غفلت نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ کے احکام دو قسم کے ہیں : (۱) ایک متعلق حق اللہ۔مثلاً اللہ تعالیٰ کو واحد لاشریک سمجھنا۔اصل مُرادزندگی کی خدا ہی ہو۔(۲) دوسرے متعلق حق العباد۔مُسلمان بھائیوں سے۔تمام بنی نوع انسان سے۔بلکہ پرند و چرند سب مخلوق کے ساتھ نیکی کرنا۔دی ہے۔میں ہے۔دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے ساتھ مناسبت ہماری جماعت ہمارے لئے بطور اعضاء کے ہے۔یا جیسا کہ درخت کی شاخیں ہوتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی طرح تبلیغ کے کام میں لگ جاؤ۔دُنیا کا پہلا گناہ تکبر ہے۔تکبر سے بچو۔مومن اپنے نیک اعمال میں ترقی کرتا رہتا ہے۔جس کے دو دن برابر گذر گئے وہ نقصان اگر انسان افتان و خیزان کچھ تھوڑی سی نیکی بھی کر لے۔تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال کفار کے ساتھ عادت اللہ الگ ہے۔اور مسلمانوں کے ساتھ الگ۔کا فراپنی عادات شرک وغیرہ کے سبب فوری سزا نہیں پاتا۔لیکن مسلمان کو ذراسی غلطی پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے۔تا کہ وہ آگاہ ہو کر اپنی اصلاح کر لے۔لیکن جب کا فرمومن کو ضرر پہنچائے تو کرلے۔لیکن اُسے فوراً تنبیہ کی جاتی ہے۔یہ خدا کا پیار ہے کہ مسلمانوں پر ابتلاء آتا ہے۔بعض کو ذرا سے گناہ پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے تا کہ وہ آگے نہ بڑھیں۔استغفار تقویٰ کی کمی کو پورا کرتا ہے۔اطمینان ویقین کے حصول کی تین راہیں ہیں۔