ذکر حبیب

by Other Authors

Page 164 of 381

ذکر حبیب — Page 164

164 یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر ناراض ہے بلکہ اس اختلاف کو دیکھ کر ہر ایک عقلمند خوب سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ہو رہا ہے اور یہ اُس کی سُنت ہید ن کے بعد رات اور رات کے بعد دن ہوتا ہے۔“ (۶۲) حنفی مذہب پر عمل فرمایا کرتے تھے " شریعت کے عملی حصہ میں سب سے اوّل قرآن مجید ہے۔پھر احادیث صحیحہ جن کی سنت تائید کرتی ہے اور اگر کوئی مسئلہ اِن دونوں میں نہ ملے تو پھر میرا مذ ہب تو یہی ہے کہ حنفی مذہب پر عمل کیا جائے کیونکہ اس کی کثرت اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کی مرضی یہی ہے مگر ہم کثرت کو قرآن مجید و احادیث کے مقابلہ میں بیج سمجھتے ہیں۔اس کے بعض مسائل ایسے ہیں کہ قیاس صحیح کے بھی خلاف ہیں۔ایسی حالت میں احمدی علماء کا اجتہادا ولی بالعمل ہے۔(۶۳) اصلی فقیر فرمایا کرتے۔آج کل بہت لوگ فقیر اور پیر بنے پھرتے ہیں مگر حالت اُن کی یہ ہے کہ جس دنیا کے پیچھے عوام لگے ہوئے ہیں۔اس کے پیچھے وہ بھی خراب ہور ہے ہیں۔توجہ اور دم کشی اور منتر جنتر اور دیگر ایسے امور کو اپنی عبادت میں شامل کئے ہوئے ہیں۔حالانکہ ایسی توجہ کے کام ہندو، عیسائی اور دہر یہ بھی کر سکتا ہے۔ایسے لوگوں نے خود تراشیدہ عبادتیں بنائی ہوئی ہیں۔جیسا کہ ذکر ارہ وغیرہ۔ایسی ریاضتوں سے بعض کے پھیپھڑے خراب ہو جاتے ہیں۔بعض کے دل کمزور ہو جاتے ہیں۔بعض دیوانے ہو جاتے ہیں اور اُن کو جاہل لوگ ولی سمجھنے لگتے ہیں۔اصلی فقیر تو وہ ہے جو دُنیا کی اغراض فاسدہ سے بالکل الگ ہو جائے اور اپنے واسطے ایک تلخ زندگی قبول کرے۔تب اُس کو حالتِ عرفان حاصل ہوتی ہے اور وہ ایک قوت ایمانی کو پاتا ہے۔خدا تعالیٰ ان باتوں سے راضی ہوتا ہے کہ انسان عفت اور پر ہیز گاری اختیار کرے۔صدق وصفا کے ساتھ اپنے خدا کی طرف جھکے۔دُنیوی کدورتوں سے الگ ہو کر تبتل الی اللہ اختیار کرے۔خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم رکھے۔خشوع کے ساتھ نماز ادا کرے۔نماز کے علاوہ اُٹھتے بیٹھتے دھیان خدا کی طرف رکھے۔خدا تعالیٰ کا ذکر کرے اور اُس کی قدرتوں میں فکر کر۔66 (۶۴) بیعت کے بعد نصیحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی عادت تھی کہ عموماً بیعت کے بعد بیعت کنندوں کو