ذکر حبیب

by Other Authors

Page 165 of 381

ذکر حبیب — Page 165

165 کچھ نصیحت کیا کرتے تھے۔ایسی نصائح کے بعض کلمات بطور نمونہ درج ذیل کئے جاتے ہیں : یہ بیعت جو ہے، اس کے معنے اصل میں اپنے تئیں بیچ دینا ہے۔بیعت کرنے والا اپنے آپ کو فروخت کر دیتا ہے۔اُس کا کچھ اپنا باقی نہیں رہتا۔بیعت کی برکات اور تاثیرات اسی شرط کے ساتھ وابستہ ہیں۔جیسے ایک تخم زمین میں بویا جاتا ہے تو اس کی ابتدائی حالت یہی ہوتی ہیگو یا وہ کسان کے ہاتھ سے بویا گیا اور اُس کا کچھ پتہ نہیں کہ آب وہ کیا ہو گا لیکن اگر وہ تخم عمدہ ہوتا ہے اور اس میں نشو ونما کی قوت موجود ہوتی ہے، تو خدا کے فضل سے اور اُس کسان کی سعی سے وہ اوپر آتا ہے اور ایک دانہ کا ہزار دانہ بنتا ہے۔اسی طرح سے بیعت کنندہ انسان کو اول انکساری اور عجز اختیار کرنا ہوتا ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ رہنا پڑتا ہے۔تب وہ نشو و نما کے قابل ہوتا ہے لیکن جو شخص بیعت کرنے کے ساتھ اپنی نفسانیت بھی قائم رکھتا ہے۔اُسے ہرگز فیض حاصل نہیں ہوتا۔صوفیوں نے بعض جگہ لکھا ہے کہ اگر مُرید کو اپنے مُرشد کے بعض مقامات پر بظاہر غلطی نظر آئے۔تب بھی اُسے چاہیے کہ اُس کا اظہار نہ کرے۔اگر اظہار کرے گا تو حط عمل ہو جائے گا۔اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دستور تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں اس طرح بیٹھتے تھے جیسا کہ کسی کے سر پر پرندہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ سر او پر نہیں اُٹھا سکتا۔یہ تمام ان کا ادب تھا۔حتی الوسع خود کبھی کوئی سوال نہ کرتے تھے۔اس بات کا انتظار کرتے تھے کہ باہر سے آ کر کوئی شخص سوال کرے اور وہ بھی جواب سُن لیں۔صحابہ بڑے متاذب تھے۔اس واسطے لکھا ہے الطَّرِيقَةُ كُلُّها اَدَب جو شخص ادب کی حدود سے باہر نکل جاتا ہے۔اس پر شیطان دخل پاتا ہے۔اور رفتہ رفتہ اس کی نوبت ارتداد کی آجاتی ہے۔اس ادب کو مد نظر رکھنے کے بعد انسان کے واسطے لازم ہے کہ وہ فارغ نشین نہ ہوا اور ہمیشہ تو بہ استغفار کرتا رہے اور جو جو مقامات اِسے حاصل ہوتے جائیں اُن پر یہی خیال کرے کہ میں ابھی قابل اصلاح ہوں اور یہ سمجھ کر کہ میرا تزکیۂ نفس ہو گیا۔وہیں نہ اڑ بیٹھے۔فرمایا کرتے۔نفسانی امور ، نفسانی اغراض، ریا کاری ، حرام خوری اس قسم کی تمام باتوں کا چھوڑنا ایک موت ہے اور جو شخص بیعت کر کے اس موت کو اختیار نہیں کرتا وہ پھر یہ شکایت نہ کرے، کہ مجھے بیعت سے فائدہ نہیں ہوا۔جب ایک انسان ایک طبیب کے پاس جاتا ہے، تو جو پر ہیز وہ بتلاتا ہے۔اگر اُسے نہیں کرتا ، تو کب شفاء پاسکتا ہے لیکن اگر وہ پر ہیز کرے گا تو یو مافیو ماترقی کرے گا۔یہی اُصول پہناں بھی ہے۔(۶۵) جوانی میں نیکی فرمایا کرتے تھے جو لوگ جوانی میں دینی زندگی گزارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف