ذکر حبیب — Page 163
163 ہے۔میں نے ایک کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثل کے طور پر دیکھا کہ میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا: جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو بس یہ وہ نسخہ ہے جو تمام انبیاء و اولیاء وصلحاء کا آزمایا ہوا ہے۔نادان لوگ اِس بات کو چھوڑ کر یو ٹیوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔اتنی محنت اگر وہ ان بُوٹیوں کے پیدا کرنے والے کے لئے کرتے تو سب من مانی مرادیں پالیتے۔“ (۶۰) صفات کارکن فرمایا کرتے تھے ” جب تک کہ کسی شخص میں تین صفتیں نہ ہوں۔وہ اس لائق نہیں ہوتا کہ اُس کے سُپر دکوئی کام کیا جائے اور وہ صفات یہ ہیں۔دیانت ، محنت ،علم۔جب تک کہ کسی میں یہ ہر سہ صفات موجود نہ ہوں۔تب تک انسان کسی لائق نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص دیانتدار اور محنتی بھی ہو لیکن جس کام میں اس کو لگایا گیا ہے۔اس فن کے مطابق علم اور ہنر نہیں رکھتا تو وہ اپنے کام کوکس طرح پورا کر سکے گا اور اگر علم رکھتا ہے ، محنت کرتا ہے ، دیانتدار نہیں تو ایسا آدمی بھی رکھنے کے لائق نہیں ، اور اگر علم و ہنر بھی رکھتا ہے۔اپنے کام میں خوب لائق ہے اور دیانتدار بھی ہے مگر محنت نہیں کرتا ، تو اس کا کام بھی ہمیشہ خراب رہے گا۔غرض کا رکن میں ہرسہ صفات کا ہونا ضروری ہے۔“ ( ۶۱ ) وحی کی عارضی بندش فرمایا کرتے تھے کہ وحی کا یہ قاعدہ ہے کہ بعض دنوں میں تو بڑے زور سے بار بار الہام پر الہام ہوتے ہیں اور الہاموں کا ایک سلسلہ بندھ جاتا ہے اور بعض دنوں میں ایسی خاموشی ہوتی ہے کہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس قدر خا موشی کیوں ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ آب وحی بند ہو گئی ہے۔چنانچہ کافروں نے ہنسی شروع کی کہ اب خدا محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ناراض ہو گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کا جواب قرآن شریف میں اِ س طرح دیا ہیوالضحى والليل إذا سجى ما ودعك رَبُّكَ و ماقلی۔یعنی قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی اور رات کی۔نہ تو تیرے رب نے تجھ کو چھوڑ دیا اور نہ تجھ پر ناراض ہوا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ جیسے دن چڑھتا ہے اور اُس کے بعد رات خود بخود آ جاتی ہے اور پھر اس کے بعد دن کی روشنی نمودار ہوتی ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی خوشی یا ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔یعنی دن چڑھنے سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت اپنے بندوں پر خوش ہے اور نہ رات پڑنے سے