ذکر حبیب

by Other Authors

Page 160 of 381

ذکر حبیب — Page 160

160 اسی لئے جبر سے حکم دیا گیا آپ تنہائی کو جو آپ کو بہت پسند تھی۔اب چھوڑ دیں۔بعض لوگ بیوقوفی اور حماقت سے یہی خیال کرتے ہیں کہ گویا میں شہرت پسند ہوں میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ میں ہرگز شہرت پسند نہیں ہوں میں تو دنیا سے ہزاروں کوس بھاگتا تھا۔حاسد لوگوں کی نظر چونکہ زمین اور اُس کی اشیاء تک ہی محدود ہوتی ہے اور وہ دُنیا کے کپڑے ہیں ، اور شہرت پسند ہوتے ہیں۔ان کو اس خلوت گزینی اور بے تعلقی کی کیفیت ہی معلوم نہیں ہو سکتی۔ہم تو دنیا کو نہیں چاہتے۔اگر وہ چاہیں اور اس پر قدرت رکھتے ہیں تو سب دُنیا لے جائیں۔ہمیں ان پر کوئی گلہ نہیں۔ہمارا ایمان تو ہمارے دل میں ہے۔نہ دنیا کے ساتھ۔ہماری خلوت کی ایک ساعۃ ایسی قیمتی ہے کہ ساری دُنیا اُس ساعت پر قربان کرنا چاہئیے۔اس طبیعت اور کیفیت کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا مگر ہم نے خدا کے امر پر جان و مال و آبرو کو قربان کر دیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں تجلی کرتا ہے تو پھر وہ پوشیدہ نہیں رہتا۔عاشق اپنے عشق کو خواہ کتنا ہی پوشیدہ کرے مگر بھید پانے والے اور تاڑنے والے قرائن اور آثار اور حالات سے پہچان ہی جاتے ہیں۔عاشق پر وحشت کی حالت نازل ہو جاتی ہے۔اور اسی اُس کے سارے وجود پر چھا جاتی ہے۔خاص قسم کے خیالات اور حالات اُس کے ظاہر ہو جاتے ہیں اور اگر ہزاروں پر دوں میں چھپے اور اپنے آپ کو چھپا لے مگر چھپا نہیں رہتا۔سچ کہا ہے۔؎ عشق و مشک را نتواں نهفتن جن لوگوں کو محبت الہی ہوتی ہے۔وہ اس محبت کو چھپاتے ہیں جس سے ان کے دل لبریز ہوتے ہیں بلکہ اس کے افشاء پر وہ شرمندہ ہوتے ہیں کیونکہ محبت اور عشق ایک راز ہے جو خدا اور اس کے بندہ کے درمیان ہوتا ہے اور ہمیشہ راز کا فاش ہو جانا شرمندگی کا موجب ہوتا ہے۔کوئی رسول نہیں آیا جس کا را از خدا سے نہیں ہوتا۔اسی راز کو چھپانے کی خواہش اس کے اندر ہوتی ہے مگر معشوق خود اس کو فاش کرنے پر مجبور کرتا ہے اور جس بات کو وہ نہیں چاہتے وہی اس کو ملتی ہے جو چاہتے ہیں ان کو ملتا نہیں اور جو نہیں چاہتے ، ان کو جبر املتا ہے۔(۵۸) زوجہ اول کے حقوق فرمایا کرتے تھے کہ ہم اپنی جماعت کو کثرت ازدواج کی تاکید کرتے ہیں کیونکہ حدیث میں آیا ہیکثرت ازدواج سے اولاد بڑ ہاؤ تا کہ اُمت زیادہ ہو۔نیز بعض اشخاص کے واسطے ضروری ہوتا ہے کہ وہ بدکاری اور بدنظری سے بچنے کے واسطے ایک سے زیادہ شادی کریں۔یا کوئی اور شرعی ضرورت مدنظر ہوتی ہے لیکن یا درکھنا چاہئیے کہ کثرت ازدواج کی اجازت بطور علاج اور دوا کے ہے۔یہ اجازت عیش وعشرت کی غرض سے نہیں ہے۔انما الاعمال بالنیات۔انسان کے ہر