ذکر حبیب

by Other Authors

Page 156 of 381

ذکر حبیب — Page 156

156 لکھی جاتی۔یا کم کرتے۔حضور کی عادت تھی کہ ہر ایک مضمون کو ایسا واضح اور آسان کر دیتے تھے کہ پڑھنے والا اُسے اچھی طرح سے سمجھ جائے اور اسی خیال سے بعض مضامین کی تشریح میں حاشیہ اور حاشیہ در حاشیہ لکھا کرتے۔قرآن شریف سے فال لینے سے حضرت صاحب عموماً منع فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ بہتر ہے کہ جو امر پیش آوے۔اس کے متعلق استخارہ کر لیا جاوے۔“ کسی شخص کے سوال پر کہ قرآن شریف پڑھتے ہوئے درمیان میں وضو ساقط ہو جائے تو کیا پھر وضو کیا جائے۔فرمایا کہ " قرآن شریف کی تلاوت سے قبل جب پہلی دفعہ وضو کر لیا ہو، اور اثنائے تلاوت میں اگر وضو قائم نہ رہے تو پھر تیم کیا جا سکتا ہے“ فرمایا کرتے تھے کہ مردوں کو ثواب پہنچانے کے واسطے صدقہ و خیرات دینا چاہیئے اور اُن کے حق میں دُعائے مغفرت کرنی چاہئیے۔قرآن شریف پڑھ کر مُردوں کو بخشا ثابت نہیں۔“ (۵۱) میں خوش کیوں ہوں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پرانی تحریر ایک دفعہ ملی جس میں ذیل کی عبارت مندرج ہے: ” میرے دل میں تین خوشیاں ہیں جو میرے لئے دُنیا اور آخرت میں بس ہیں۔(۱) ایک یہ کہ میں نے اُس نیچے خدا کو پالیا ہے جس کی طرف سجدہ کرتے ہوئے ہر ایک ذرہ ایسا ہی جھکتا ہے جیسا کہ ایک عارف جھکتا ہے۔(۲) یہ کہ اس کی رضا مندی میں نے اپنے شامل حال دیکھی ہے اور اس کی رحمت سے بھری ہوئی محبت کا میں نے مشاہدہ کیا ہے (۳) تیسرے یہ کہ میں نے دیکھا ہے اور تجربہ کیا ہے کہ وہ عالم الغیب ہے اور ایسا کامل رحیم ہے ، کہ ایک رحم اس کا تو عام ہے اور خاص رحم اس کا اُن لوگوں سے تعلق رکھتا ہے ، جو اس میں کھوئے جاتے ہیں اور وہ قدیر ہے جس کی تکلیف کو راحت سے بدلنا چاہے، ایک دم میں بدل سکتا ہے۔یہ تین صفتیں اُس کے پرستاروں کے لئے بڑی خوشی کا مقام ہے۔“ فرمایا کرتے تھے ایک آدمی جس کے دل میں یہ بات ہو، کہ خدا کے واسطے کام کرے۔وہ کروڑوں آدمیوں سے بہتر ہے۔فرمایا کرتے تھے ” ہمارا سب سے بڑا کام کسر صلیب ہے“