ذکر حبیب

by Other Authors

Page 155 of 381

ذکر حبیب — Page 155

155 اُردو یا فارسی یا انگریزی وغیرہ میں کرنا جائز نہیں ہے اور عموماً لوگوں کی عادت ہے کہ سلام پھیر نے کے بعد پھر ہاتھ اُٹھا کر اپنی زبان میں دُعائیں کرتے ہیں اور اپنے دلی جذبات اور خواہشات کا اظہار کرتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا فرمایا کہ ” نماز کے اندر سجدہ میں یا رکوع کے بعد کھڑے ہو کر یا کسی دوسرے موقع پر مسنون دُعا کہنے کے بعد اپنی زبان میں دُعا مانگنا جائز ہے کیونکہ اپنی زبان میں ہی انسان اچھی طرح اپنے جذبات اور دلی جوش کا اظہار کر سکتا ہے۔“ کسی نے عرض کی کہ مولوی لوگ تو کہتے ہیں نماز کے اندر اپنی زبان میں دُعا کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔فرمایا ” اُن کی نماز تو پہلے ہی ٹوٹی ہوئی ہے کیونکہ وہ سمجھتے نہیں کہ کیا کہ رہے ہیں۔دُعا خواہ کسی زبان میں کی جائے اس سے نماز نہیں ٹوٹتی ،، فرمایا ” جو لوگ نماز عربی میں جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں۔اس کے مطلب کو نہیں سمجھتے اور نہ انہیں کچھ ذوق اور شوق پیدا ہوتا ہے اور سلام پھیرنے کے بعد لمبی دُعائیں کرتے ہیں۔اُن کی مثال اُس شخص کی ہے جو بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور تخت کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی عرضی پیش کی جو کسی سے لکھوائی تھی اور بغیر سمجھنے کے طوطے کی طرح اُسے پڑھ کر سلام کر کے چلا آیا اور دربار سے باہر آ کر شاہی محل کے باہر کھڑے ہو کر پھر کہنے لگا کہ میری یہ عرض بھی ہے اور وہ عرض بھی ہے۔اُسے چاہئیے تھا کہ عین حضوری کے وقت اپنی تمام عرضیں پیش کرتا “ فرمایا ” ایسے لوگوں کی مثال جو نماز میں دُعا نہیں کرتے اور نماز کے خاتمہ کے بعد لمبی دُعائیں کرتے ہیں۔اُس شخص کی طرح ہے جس نے اگے کی چوٹی کو الٹا کر زمین پر رکھا اور پیتے اوپر کی طرف ہو گئے اور پھر گھوڑے کو چلایا کہ اس اکے جلد کو کھینچے۔“ (۵۰) اصلاح مسودہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب کوئی مسودہ کسی کتاب یا اشتہار کے واسطے لکھتے تھے تو اُسے دوبارہ اور بعض دفعہ کئی بار پڑھتے اور اصلاح کرتے تھے اور کاتب کو بھی مسودہ دینے سے قبل عموماً اُن خدام کو جو قادیان میں موجود ہوتے ، مسودہ خود پڑھ کر سُنایا کرتے اور جب کا تب کا پی لکھ لیتا تو خود کا پی پڑھتے اور بعض جگہ پھر کچھ اصلاح کرتے اور عبارت زیادہ کرتے۔جب کا پی پتھر پر لگ جاتی تو پروف خود پڑھتے اور بعض جگہ تشریح کے طور پر کچھ عبارت بڑہاتے ، جو پتھر پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی تک قادیان بٹالہ کے درمیان آمد و رفت کے واسطے اگتے ہی چلتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ٹمٹموں کا رواج ہوا اور حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ کے زمانہ میں ۱۹۲۶ء میں پہلے موٹروں کا رواج ہوا اور ۱۹۲۸ء میں ریل جاری ہوئی۔