ذکر حبیب — Page 154
154 انجام کا اچھا ہونا اعمال صالحہ کی صلاحیت پر موقوف ہے۔اگر اللہ تعالیٰ صبح سے شام تک کسی سے مکالمہ کرتا رہے تو یہ اس کی کوئی خوبی کی بات نہ ہوگی کیونکہ یہ تو خدا کی عطاء ہوگی۔دھیان اس بات پر لگانا چاہیئے کہ خود ہم نے خدا تعالیٰ کے لئے کیا گیا۔(۴۷) تین قسم کے ثبوت فرمایا کرتے ” ایک مامور کی شناخت کے تین طریق ہیں۔نقل ، عقل ، تائیدات سماوی یہ تینوں امور ہمارے دعوی کے مؤید ہیں۔“ ( ۴۸ ) جو دنفس اپنی جماعت کو نصیحتا فرمایا کرتید نیاوی تنازعات کے وقت مالی نقصان برداشت کر لو اور جو د نفس سے کام لو تا کہ تنازع رفع ہو۔انسان کو ایسا موقع ہمیشہ ہاتھ نہیں آتا کہ وہ فطرت کے یہ جو ہر دکھا سکے اور اپنے بھائی کی خاطر نقصان اُٹھا لے اور سچا ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرے۔جب کبھی ایسا موقع ہاتھ آ جائے۔اُسے غنیمت خیال کرنا چاہیے۔“ (۴۹) ضرورت مسجد فرمایا کرتے کہ جہاں کہیں ہماری جماعت ہو۔وہاں عبادت الہی کے واسطے مسجد ضرور بنا لینی چاہیئے۔مسجد خانہ خدا ہوتا ہے جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد بن گئی ، وہاں سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں یا شہر ہو۔جہاں مسلمان کم ہوں ، یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو، تو وہاں ایک مسجد بنادینی چاہیے پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت خالص ہو۔یہ ضروری نہیں ہے کہ مسجد مرضع اور پکی عمارت کی ہو بلکہ صرف زمین روک لینی چاہئیے اور مسجد کی حد بندی کر دینی چاہیے اور بانس وغیرہ کا کوئی چھپر ڈال دو تا کہ بارش اور دھوپ سے بچاؤ ہو۔خدا تعالیٰ تکلفات کو پسند نہیں کرتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد چند کھجوروں کی شاخوں سے بنائی گئی تھی اور مدت تک ویسی ہی رہی۔جماعت کے لوگوں کو چاہیے کہ ہر جگہ اپنی مسجد میں اکٹھے ہو کر باجماعت نماز پڑھیں۔جماعت اور اتفاق میں بڑی برکت ہے۔پرا گندگی سے پھوٹ پیدا ہوتی ہے۔“ ہندوستان میں عموماً مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ نماز کے اندر تکبیر اولیٰ کے بعد اور سلام پھیرنے سے قبل سوائے مسنوں دُعاوں کے جو عربی زبان میں پڑھی جاتی ہیں اور کوئی دُعا اپنی زبان