ذکر حبیب — Page 129
129 ہوں۔مجھے حضور نصیحت فرمائیں۔حضرت نے فرمایا تقویٰ اختیار کرو۔اوس نے نہایت سادگی سے عرض کی کہ حضور میں نہیں جانتا تقویٰ کیا ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا تقویٰ یہ ہے کہ ”جس چیز میں 66 دسواں حصہ بھی شبہ کا ہو ا وس کو چھوڑ دو۔“ مولوی محمد علی صاحب پر نا راضگی اپنے آخری سفر میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور تشریف لے گئے تو لنگر خانہ کا انتظام مولوی محمد علی صاحب کے سپر د ہوا حضرت نور الدین صاحب کو اور عاجز راقم کو اور بعض دیگر اصحاب کو بھی حضرت صاحب نے لاہور بلالیا تھا لیکن مولوی محمد علی صاحب قادیان ہی میں مقیم رہے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اعتراضاً لکھا کہ لنگر خانہ کا خرچ تو بہت ہی تھوڑا ہے۔معلوم نہیں کیوں ایسا کہا جاتا ہے کہ لنگر میں اس قدر خرچ ہوتا ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بہت ناراض ہوئے اور فرمایا اسے اتنا خیال نہیں آتا کہ ہمارے لاہور چلے آنے کے سبب مہمان تو سب لاہور آ رہے ہیں۔اب قادیان جا تا ہی کون ہے جو لنگر خانہ کا پہلے کی طرح خرچ ہو۔“ اس کے بعد چند دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہو گیا اور مولوی محمد علی صاحب کو حضور کی زندگی میں ایسا موقع نہیں ملا کہ وہ معذرت کرتے اور معافی مانگتے۔ایک دُعاء کی قبولیت ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا۔جمعہ کا دن تھا۔قبل نماز جمعہ میں حضرت صاحب کی خدمت میں اندرون خانہ حاضر ہوا۔فرمایا۔مفتی صاحب مجھے سخت سردرد ہو رہا ہے۔اس واسطے میں نماز جمعہ کے لئے مسجد کو نہیں جا سکتا۔آپ تشریف لے جائیں۔حضرت کے اس فرمانے سے مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں نے جامعہ مسجد میں جا کر نماز کے اندر نہایت رقت سے حضرت صاحب کی صحت کے واسطے دُعا کی۔ہنوز میں دُعا میں مصروف ہی تھا کہ حضرت صاحب مسجد میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ مجھے سر درد سے آرام ہو گیا۔اس واسطے میں چلا آیا کہ جمعہ پڑھ لینا چاہیئے۔وجہ تصنیف رسالہ قادیان کے آریہ ایک جلسہ کے موقع پر جبکہ احباب قادیان میں کثرت سے جمع تھے اور مسجد کے اندر نمازیوں کے واسطے جگہ نہ رہی تو بعض لوگ مسجد کے جنوب مغربی کونے کے ساتھ جو ایک ہندو کا