ذکر حبیب — Page 130
130 مکان تھا۔اس کے کوٹھے پر کھڑے ہو گئے۔اُن میں منجملہ اور دوستوں کے خواجہ کمال الدین صاحب بھی تھے۔اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی موسم سرما کی سردی کے سبب باہر کے صحن میں قبر کے شرقی جانب دھوپ میں نماز کے لئے بیٹھ گئے۔جب نماز کھڑی ہوئی تو کو ٹھے کے مالک ہندو نے نیچے سے بہت گندی گالیاں دیں جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت ہی رنج ہوا اور یہ واقعہ اور قادیان کے آریاؤں کی تازہ مخالفانہ تحریریں ”رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم کے تصنیف کرنے کا محرک ہوئے۔۔ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب ہنوز کالج میں تعلیم پاتے تھے کہ ان کی شادی کی تجویز ہوئی جس کو انہوں نے نامنظور کیا۔اس پر ان کے والد مرحوم حضرت میر ناصر نواب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک خط ان کے نام لکھوایا۔تب ڈاکٹر صاحب نے مان لیا۔تب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔مجھے پہلے سے یقین تھا کہ محمد اسمعیل میری تحریرہ پر اس بات کو قبول کر لے گا۔حد یث کو لاک ایک دفعہ حضرت مسیح موعوڈ سے سوال ہوا کہ کیا حدیث لولاک لما خلقت الافلاک درست ہے۔فرمایا۔یہ حدیث بلحاظ قواعد صحت روایت صحاح میں نہیں ہے لیکن مطلب اور مفہوم کے لحاظ سے یہ حدیث صحیح ہے۔مولوی حکیم سردار محمد صاحب کا اخلاص ایک دفعہ مولوی حکیم سردار محمد صاحب ساکن میانی ضلع شاہپور جو حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے برادر زادہ تھے۔انہوں نے اپنے ایک خط میں اظہا را خلاص کرتے ہوئے یہ لفظ لکھے کہ میں قادیان پر قربان جاؤں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہ بہت بڑے اخلاص کی علامت ہے۔جب انسان کسی کے ساتھ سچا اخلاص رکھتا ہے تو محبوب کے قرب و جوار بھی پیارے لگتے ہیں۔مسوده کتاب نور الدین