ذکر حبیب

by Other Authors

Page 119 of 381

ذکر حبیب — Page 119

119 ایک دفعہ بعض دوستوں نے اس بلی کے مالک کو کہا ہم بھی تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ اُنہوں نے حلوہ دودھ، پیپھڑے وغیرہ بلی کے پاس رکھ کر باہر سے قفل لگا دیا۔تین دن کے بعد جو دیکھا تو بلی مری پڑی تھی اور وہ کھانا اُسی طرح صحیح و سالم موجود تھا۔یہ حیوانوں کی وفا اور استقامت کا حال ہے۔اگر ارزل مخلوقات کے صفات حسنہ بھی انسان میں نہ پائی جائیں تو پھر وہ کس خوبی کے لائق ہے۔واعظین سلسلہ کیسے ہوں اکتوبر 1966ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک تقریر کی اور خواہش ظاہر کی کہ جماعت کے بعض احباب خدمت تبلیغ کے واسطے اپنی زندگی وقف کریں۔وہ تقریر اور اُس وقت زندگی وقف کرنے والے احباب کے اسمائے گرامی صفحہ ۱۴۷ پر درج ہو چکے ہیں۔فرمایا ” حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا نمونہ دیکھنا چاہئیے۔وہ ایسے نہ تھے کہ کچھ دین کے ہوں اور کچھ دُنیا کے بلکہ وہ خاص دین کے بن گئے تھے اور اپنا جان و مال سب اسلام پر قربان کر چکے تھے۔ایسے ہی آدمی ہونے چاہئیں جو سلسلہ کے واسطے مبلغین اور واعظین مقرر کئے جائیں۔وہ قانع ہونے چاہئیں اور دولت و مال کا ان کو فکر نہ ہو۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو تبلیغ کے واسطے بھیجتے تھے تو وہ حکم پاتے ہی چل پڑتا تھا۔نہ سفر خرچ مانگتا تھا اور نہ گھر والوں کے افلاس کا عذر پیش کرتا تھا۔یہ کام اُس سے ہو سکتا ہے جو اپنی زندگی کو اس کے لئے وقف کر دے۔متقی کو خدا تعالیٰ آپ مدد دیتا ہے۔وہ خدا کے واسطے تلخ زندگی کو اپنے لئے گوارا کرتا ہے۔اگر چہ بہت سے لوگ اس جگہ آتے ہیں مگر جب کچھ بھی ملونی دُنیا کی ساتھ ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ پانی میں تھوڑا سا پیشاب مل گیا ہو۔خدا اس کو پیار کرتا ہے جو خالص دین کے واسطے ہو جائے ہم چاہتے ہیں کہ کچھ آدمی ایسے منتخب کئے جائیں جو تبلیغ کے واسطے اپنے آپ کو وقف کر دیں اور دوسری کسی بات سے غرض نہ رکھیں۔ہر قسم کے مصائب اُٹھا ئیں اور ہر جگہ پر پھر نکلیں اور خدا کی بات پہنچا ئیں۔صبر اور تحمل سے کام لینے والے آدمی ہوں۔ان کی طبیعتوں میں جوش نہ ہو مگر ہر ایک کی سخت کلامی اور گالی کوسن کر آگے نرمی کے ساتھ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہوں جہاں دیکھیں کہ شرارت کا خوف ہے وہاں سے چلے جائیں اور فتنہ و فساد کے درمیان اپنے آپ کو نہ ڈالیں اور جہاں دیکھیں ، کہ کوئی سعید آدمی ان کی بات کو سنتا ہے۔اُس کو نرمی سے سمجھا ئیں۔جلسوں اور مباحثوں کے اکھاڑوں سے پر ہیز کریں کیونکہ اس طرح فتنہ کا خوف ہوتا ہے۔آہستگی اور خوش خلقی سے اپنا کام کرتے ہوئے چلے جائیں۔