ذکر حبیب

by Other Authors

Page 111 of 381

ذکر حبیب — Page 111

111 لوگ ان کے ساتھ سازش میں شریک ہوتے ہیں۔سب ایک ہی رنگ میں مخالف ہیں اور سب ہمارا استیصال چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو براہین احمدیہ میں آج ۲۵ برس پہلے سے شائع ہو چکا ہے کہ خدا اس جماعت کو قیامت تک کفار پر غلبہ دے گا۔کفار سے مراد اس سلسلہ حقہ کے انکار کرنے والوں سے ہے خواہ وہ اندرونی ہوں، خواہ بیرونی ہوں۔ہم مطمئن ہیں کہ خدا تعالیٰ کے وعدے نیچے ہیں اور وہ ایک دن ضرور پورے ہوں گے ان کو کوئی روک نہیں سکتا لیکن دُنیا جائے اسباب ہے۔جیسا کہ جسمانی دُنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے واسطے سعی کرتے ہیں۔اگر چہ فصل آسمانی بارش سے پکتا ہے کیونکہ قلبہ رانی تخمریزی وغیرہ اسباب کا مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے جس طرح اوائل اسلام میں آنحضرت کی قوت قدسیہ نے ہزاروں با اخلاص اعلیٰ درجہ کے بنائے تھے ایسے مخلصین سے کام بنتا ہے۔صاحبزادہ مبارک احمد صاحب مرحوم صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی وفات پر بہت سے خطوط ماتم پرسی کے حضرت صاحب کی خدمت میں آئے جواب تک میرے پاس محفوظ ہیں ( تعداد۸۳ )۔ان خطوط میں اکثر دوستوں نے اظہار غم اور ہمدردی کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ جیسے صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی پیدائش پیشگوئیوں کے مطابق ایک نشان تھی ایسا ہی مرحوم کی وفات بھی ایک نشان ہے اور جتنا عرصہ وہ زندہ رہے اس میں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔ان کی پیدائش زندگی اور موت سب ہمارے لئے موجب از دیا دایمان ہیں۔بعض احباب نے حضرت صاحب کے اس الہام کا جو پہلے سے شائع ہو چکا تھا اپنے خطوں میں حوالہ دیا۔”اے اہل بیت ہے تو بھاری مگر خدا کے امتحان کو قبول کر سال ۱۹۰۶ء غیر مذاہب سے مخالفت کیوں فرمایا : ہمیں کسی کے ساتھ بغض و عداوت نہیں۔ہمارا مسلک سب کی خیر خواہی ہے۔اگر ہم آریوں یا عیسائیوں کے برخلاف کچھ لکھتے ہیں تو وہ کسی دلی عناد یا کینہ کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اُس وقت ہماری حالت اس جرآح کی طرح ہوتی ہے جو پھوڑے کو چیر کر اس پر مرہم لگاتا ہے۔نادان بچہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص میرا دشمن ہے اور اس کو گالیاں نکالتا ہے مگر جراح کے دل میں نہ غصہ ہے نہ رنج، نہ اُس کو گالیوں پر کوئی غضب آتا ہے۔وہ ٹھنڈے دل سے خیر خواہی کا کام کرتا چلا جاتا ہے۔