ذکر حبیب

by Other Authors

Page 106 of 381

ذکر حبیب — Page 106

106 مقصد بعثت ۲۷ / دسمبر ۱۹۰۵ء۔فرمایا : اصل بات جس کے واسطے ہم مبعوث ہوئے ہیں یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان بہت سی غلطیاں اعتقادی اور عملی رنگ میں پڑ گئی ہیں اور اُن میں اسلامی رُوحانیت نہیں رہی صرف ایک چھلکا رہ گیا ہے۔پس ضروری ہے کہ اسلامی روحانیت پھر قائم کی جائے اور سچے اسلامی عقائد پھر لوگوں کے دلوں میں بیٹھائے جائیں۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم ایام جلسه دسمبر ۱۹۰۵ء۔باہر بہشتی مقبرہ میں بیٹھے ہوئے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا ذکر تھا۔فرمایا وہ اس سلسلہ کی محبت میں بالکل محو تھے۔جب اوائل میں میرے پاس آئے تھے تو سید احمد کے معتقد تھے۔کبھی کبھی ایسے مسائل پر میری ان کی گفتگو ہوتی جو سید احمد کے غلط عقائد میں تھے اور بعض دفعہ بحث کے رنگ تک نوبت پہنچ جاتی مگر تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک دن اعلامیہ کہا کہ آپ گواہ رہیں کہ آج میں نے سب باتیں چھوڑ دیں۔اس کے بعد وہ ہماری محبت میں ایسے محو ہو گئے تھے کہ اگر ہم دن کو کہتے کہ ستارے ہیں اور رات کو کہتے کہ سورج ہے تو وہ کبھی مخالفت کرنے والے نہ تھے۔ان کو ہمارے ساتھ ایک پورا اتحاد اور پوری موافقت حاصل تھی۔کسی امر میں ہمارے ساتھ خلاف رائے کرنا وہ کفر سمجھتے تھے۔ان کو میرے ساتھ نہایت درجہ کی محبت تھی اور وہ اصحب الصفہ میں سے ہو گئے تھے جن کی تعریف خدا تعالیٰ نے پہلے سے اپنی وحی میں کی تھی۔ان کی عمر ایک معصومیت کے رنگ میں گزری تھی اور دُنیا کی عیش کا کوئی حصہ انہوں نے نہیں لیا تھا۔نوکری بھی اُنہوں نے اسی واسطے چھوڑی تھی کہ اس میں دین کی ہتک ہوتی ہے۔پچھلے دنوں میں ان کو ایک نوکری دوسو روپے ماہوار کی ملتی تھی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔خاکساری کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی گزاری۔صرف عربی کتابوں کے دیکھنے کا شوق رکھتے تھے۔اسلام پر جو اندرونی بیرونی حملے پڑتے تھے اُن کے اندفاع میں اپنی عمر بسر کر دی۔باوجود اس قدر بیماری اور ضعف کے ان کی قلم چلتی رہتی تھی۔ان کے متعلق ایک خاص الہام بھی تھا۔مسلمانوں کا لیڈر غرض میں جانتا ہوں کہ ان کا خاتمہ قابل رشک ہوا کیونکہ ان کے ساتھ دُنیا کی ملونی نہ تھی۔جس کے ساتھ دُنیا کی ملونی ہوتی ہے اس کا خاتمہ اچھا نہیں ہوتا۔انجام نیک اُن کا ہوتا ہے جو فیصلہ کر لیتے ہیں کہ خدا کو راضی کرنے میں خاک ہو جائیں گے۔عظمت مدرسہ تعلیم الاسلام مدرسہ تعلیم الاسلام کے بانی خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔اس مدرسہ کی