ذکر حبیب

by Other Authors

Page 107 of 381

ذکر حبیب — Page 107

107 عظمت ایک خط سے ظاہر ہے جو حضور نے ایک مدرس کو لکھا تھا جو اس مدرسہ سے استعفا دینا چاہتا تھا۔وہ یہ ہے: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔میرے نزدیک یہ ارادہ ہرگز مناسب نہیں۔اس سے خود غرضی اور دُنیا طلبی سمجھی جاتی ہے۔آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ مدرسہ محض دینی اغراض کی وجہ سے ہے اور صبر سے اس میں کام کرنے والے خدا تعالیٰ کی رحمت سے نزدیک ہوتے جاتے ہیں۔چونکہ یہ مدرسہ نیک نیتی سے محض دینی تخم ریزی کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے اس لئے میرے خیال میں استعفا دینے والوں کے استعفا سے اس کا کچھ بھی حرج نہ ہوگا۔خدا تعالیٰ اس کے لئے اور خدمت کرنے والا پیدا کر دے گا۔لیکن اگر کوئی اس مدرسہ سے الگ ہو کر اپنی دُنیا طلبی میں اِدھر اُدھر خراب ہوگا تو رفتہ رفتہ دین سے دُور ہو جائے گا۔چاہیئے کہ صبر کے ساتھ گزارہ کریں۔اگر خدا تعالیٰ اس قدر لیاقت نہ دیتا تب بھی تو پانچ سات روپے میں گزارہ کرنا ہوتا بلکہ میں نے آپ کے امتحان کی نا کامیابی کے وقت سوچا تھا کہ اس میں کیا حکمت ہے تو میرے دل میں یہی حکمت خیال آئی تھی کہ تا دنیوی طمع کا دامن کم کر کے دین پیش کیا جاوے۔پس امتحان میں پاس نہ ہونا ایسا ہی تھا جیسا کہ خضر نے کشتی کا تختہ توڑ دیا تھا تا عمدہ حالت میں ہو کر غیروں کے ہاتھ میں نہ جا پڑیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر آپ اس جگہ سے استعفا دو گے تو عیالداری کے لحاظ سے قادیان کو چھوڑنا ہی پڑے گا اور یہی صورت دینی تعلقات سے دُور ہونے کے لئے ممد ہو جائے گی۔صحابہ رضی اللہ عنہم کی حالت سب خدا تعالیٰ کے لئے ہو گئی تھی مگر اس زمانہ میں اس قدر غنیمت ہے کہ اس جماعت کی ایسی حالت ہو جائے کہ کچھ خدا کے لئے اور کچھ دُنیا کے لئے ہوں۔۔۔۔والسلام۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ ارواح سے کلام " جب ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اہل بیعت اور چند خدام کے ساتھ دہلی تشریف لے گئے تو یہ خادم بھی بلحاظ ایڈیٹر اخبار بدر حضوڑ کے ہمرکاب تھا۔محلہ چتلی قبر میں الف خان سیاہی والے کے مکان پر قیام ہوا۔ایک دن حضرت صاحب فرمانے لگے کہ دہلی کے زندوں سے تو بہت امید نہیں چلو یہاں کے مُردوں سے ملاقات کریں کیونکہ اس سرزمین میں کئی ایک بزرگ اولیاء اللہ مدفون ہیں۔چنانچہ اس کے مطابق کئی دنوں میں خواجہ میر درد، قطب الدین اولیاء، قطب صاحب اور دیگر بزرگوں کی قبروں میں جاتے رہے۔ان قبروں پر تھوڑی دیر کھڑے ہو کر