ذکر حبیب — Page 103
103 امام مقتدیوں کا خیال رکھے ۱۶ / اپریل ۱۹۰۵ء کسی شخص نے ذکر کیا کہ فلاں دوست نماز پڑھانے کے وقت بہت لمبی سورتیں پڑھتے ہیں۔فرمایا امام کو چاہئیے کہ نماز میں ضعفا کی رعایت رکھے۔نوٹ : مرحوم مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کی وفات سے تھوڑا عرصہ قبل اتفاقاً ایک دفعہ مسجد مبارک میں عاجز راقم کو امامت نماز کا موقع ہوا۔جب نماز ختم ہوئی تو مولوی عبد اللہ صاحب ہنتے ہوئے آگے بڑھے اور فرمانے لگے۔حضرت صاحب ( مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) بھی نماز ایسی ہی مختصر پڑھاتے تھے۔جیسی آپ نے پڑھائی۔یہ ذکر نماز میں امامت کا تھا ورنہ جو نمازیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بطور خود علیحدگی میں پڑھتے تھے انہیں بہت لمبا کرتے تھے۔چونکہ حضرت مولوی عبداللہ صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ سے بہت قبل وقت سے حضرت کی خدمت میں آنے والے تھے اور اُن ایام میں کثرت سے قادیان میں رہتے تھے ، انہیں حضرت صاحب کی اقتداء میں بہت نمازیں پڑھنے کا موقع ملتا رہا۔عاجز راقم کا ایک خواب ۵رمئی ۱۹۰۵ء۔عاجز راقم نے اپنا گذشتہ شب کا رؤیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے خدمت میں عرض کیا۔” میں نے ایسا دیکھا ہے کہ شاید ہم لاہور میں ہیں۔ایک اونچی مسجد میں نماز پڑھی۔پھر ہم ایک رتھ میں سوار ہو کر چلے۔رتھ میں تین آدمی تھے۔حضرت میاں محمود ( احمد صاحب) اور یہ عاجز - آگے چل کر وہی رتھ ہاتھی بن گئی اور ہم ہودہ پر سوار ہیں۔صلوٰۃ اور دُعا میں فرق فرمایا: ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوٰۃ میں اور نماز میں کیا فرق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے الصلوة هي الدعاء - صلوۃ ہی دُعا ہے۔الصلوة مع العبادة- نماز عبادت کا مغز ہے۔جب انسان کی دُعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوٰۃ نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مدنظر رکھتا ہے اور ادب، انکسار، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوٰۃ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دُعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔صلوٰۃ کا لفظ پرسوز معنے پر دلالت کرتا ہے۔جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسی ہی گدازش دُعا میں پیدا ہونی چاہئیے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اُس کا نام صلوۃ ہوتا