ذکر حبیب — Page 102
102 نشانات ہیں۔( دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو حفاظت میں رکھے۔) انتخاب و اقتباس از اخبار بدر مرحوم و مغفور محمد افضل خان صاحب ایڈیٹر اخبار البدر کی وفات پر جب اس اخبار کی ایڈیٹری کا کام عاجز راقم کے سپر د ہوا اور ہائی اسکول کی مدرسی سے فراغت حاصل کر کے عاجز صرف اسی کام پر لگ گیا تو مجھے وقت کا زیادہ حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں بیٹھنے اور حضور کے کلام کو لکھنے کے واسطے ملنے لگا اور ان حالات کو میں اپنے اخبار میں ڈائری اور القول الطیب کے عنوان کے ماتحت درج کرتا رہا۔اُن سب ڈائریوں کا اندراج اس کتاب میں نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کا حجم بہت ہے۔تاہم اس میں کچھ انتخاب واقتباس درج کیا جاتا ہے۔کلام الہی قواعد صرف ونحو کے ماتحت نہیں یکم اپریل ۱۹۰۵ء کی قبل کی رات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا مَحَوْنَانَا رَجَهَتم - ترجمہ۔ہم نے جہنم کی آگ کو محو کیا۔اس الہامی عبارت کا ذکر مجلس میں ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ لوگوں کے محاورات اور صرف ونحو کے قواعد کے ماتحت نہیں ہے۔اس کی مثالیں کتب الہا میہ اور انبیاء اور اولیاء کے الہامات میں بہت ہیں کہ ایجاد کردہ قواعد زبان کے برخلاف کئی عبارتیں اور فقرات نازل ہوتے رہے ہیں۔زلزلہ کے وقت مسیح موعود کی حالت ۱۴اپریل ۱۹۰۵ ء صبح سوا چھ بجے ایک دفعہ نہایت زور آور حملہ زلزلہ کا ہوا۔تمام مکانات اور اشیاء ہلنے اور ڈولنے لگ پڑیں۔لوگ حیران اور سراسیمہ ہو کر گھبرانے لگے۔ایسے وقت میں خدا کے مسیح کا حال دیکھنے کے لائق تھا کیونکہ احادیث میں تو ہم پڑہا ہی کرتے تھے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے آسمانی اور زمینی واقعات پر خشیت اللہ کا بڑا اثر اپنے چہرے پر ظاہر فرماتے تھے۔ذرا سے بادل کے نمودار ہونے پر آپ بے آرام سے ہو جاتے۔کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر جاتے۔غرض اس وقت بھی نبی اللہ نے ہر کہ عارف تر است ترساں تر والے مقولہ کو عملی رنگ میں بالکل سچا کر کے دکھایا۔زلزلہ کے شروع ہوتے ہی آپ بمع اہل بیت اور بال بچہ کے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دُعا کرنے میں شروع ہو گئے اور اپنے رب کے آگے سر بسجو د ہوئے۔بہت دیر تک قیام رکوع اور سجدہ میں سارا کنبہ کا کنبہ بمع خدام کے گرا رہا اور خدا تعالیٰ کی بے نیازی سے لرزاں وتر ساں رہا۔