ذکر حبیب

by Other Authors

Page 95 of 381

ذکر حبیب — Page 95

95 جاتی ہے۔مگر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کلید اور قوت دُعا ء ہے۔دُعا کو مضبوطی سے پکڑ لو۔میں یقین رکھتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر اللہ تعالیٰ ساری مشکلات کو آسان کر دے گا لیکن مشکل یہ ہے کہ لوگ دُعا کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ دُعا کیا چیز ہے؟ دُعا یہی نہیں کہ چند لفظ منہ سے بڑ بڑائے۔یہ تو کچھ بھی نہیں۔دُعا اور دعوت کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ کو اپنی مدد کے لئے پکارنا۔اور اس کا کمال مؤثر ہونا اُس وقت ہوتا ہے جب انسان کمال دردِ دل اور سوز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اُس کو پکارے۔ایسا کہ اُس کی رُوح پانی کی طرح گداز ہو کر آستانہ الوہیت کی طرف بہ نکلے۔یا جس طرح کوئی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور وہ دوسرے لوگوں کو اپنی مدد کے لئے پکارتا ہے تو دیکھتے ہو کہ اُس کی پکار میں کیسا انقلاب اور تغیر ہوتا ہے۔اُس کی آواز ہی میں وہ درد بھرا ہوا ہوتا ہے جو دوسروں کے رحم کو جذب کرتا ہے۔اسی طرح وہ دُعا جو اللہ تعالیٰ سے کی جاوے۔اس کی آواز اس کا لب، لہجہ اور ہی ہوتا ہے۔اس میں وہ رقت اور درد ہوتا ہے جو الوہیت کے چشمہ رحم کو جوش میں لاتا ہے۔اس دُعا کے وقت آواز ایسی ہو کہ سارے اعضا اس سے متاثر ہو جاویں اور زبان میں خشوع و خضوع ہو۔دل میں درد اور رقت ہو۔اعضا میں انکسار اور رجوع الی اللہ ہو اور پھر سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر کامل ایمان اور پوری اُمید ہو۔اُس کی قدرتوں پر ایمان ہو۔ایسی حالت میں جب آستانہ الوہیت پر گرے گا نامراد واپس نہ ہوگا۔چاہئیے کہ اس حالت میں بار بار حضور الہی میں عرض کرے کہ میں گنہگار ہوں اور کمزور ہوں۔تیری دستگیری اور فضل کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا تو آپ رحم فرما اور مجھے گنا ہوں سے پاک کر کیونکہ تیرے فضل وکرم کے سوا کوئی اور نہیں ہے جو مجھے پاک کرے۔جب اس قسم کی دُعا میں مداومت کرے گا اور استقلال اور صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور تائید کا طالب رہے گا تو کسی نامعلوم وقت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور اور سکینت اُس کے دل پر نازل ہوگی جو دل سے گناہ کی تاریکی کو دور کرے گی اور غیب سے ایک طاقت عطاء ہوگی جو گناہ سے بیزاری پیدا کر دے گی اور وہ اُن سے بچے گا۔اس حالت میں دیکھے گا کہ میرا دل جذبات اور نفسانی خواہشوں کا ایسا اسیر اور گرفتار تھا گویا ہزاروں ہزار زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا جو بے اختیار اُ سے کھینچ کر گناہ کی طرف لے جاتے تھے۔ایک دفعہ وہ سب زنجیر ٹوٹ گئے ہیں اور آزاد ہو گیا ہے اور جیسے پہلی حالت میں گناہ کی طرف ایک رغبت اور رجوع تھا اس حالت میں وہ محسوس اور مشاہدہ کرے گا کہ وہی رغبت اور رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔گناہ سے محبت کی بجائے نفرت اور اللہ