ذکر حبیب

by Other Authors

Page 92 of 381

ذکر حبیب — Page 92

92 زندگی نہ برتو۔وفا اور صدق کا خیال رکھو۔اگر سارا گھر غارت ہوتا ہے تو ہونے دونگر نماز کو ترک مت کرو۔وہ کافر اور منافق ہیں جو نماز کو منحوس کہتے ہیں۔اُن کے اندر خود زہر ہے۔جیسے بیمار کو شیرینی کڑوی لگتی ہے ویسے ہی ان کو نماز کا مزہ نہیں آتا۔نماز دین کو درست کرتی ہے۔نماز کا مزاد نیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے۔لذاتِ جسمانی کے لئے ہزاروں روپے خرچ ہوتے ہیں اور اس قد رخرچ ہو کر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان بیماریوں میں گرفتار ہوتا ہے۔مگر نماز ایک مفت کا بہشت بیجو انسان کو حاصل ہوتا ہے۔قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے۔ایک ان میں سے دُنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کو ربوبیت سے ایک ابدی تعلق پرکشش ہے۔اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لئے خدا نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذت رکھ دی ہے جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے۔جیسے ایک لڑکے اور لڑکی کی باہمی شادی ہوتی ہے تو اگر ان کے ملاپ میں ایک لذت نہ ہو تو فساد پیدا ہوتا ہے۔ایسا ہی اگر نماز میں لذت نہ ہو تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔دروازہ بند کر کے دُعا کرنی چاہئیے کہ وہ رشتہ قائم رہے اور لذت پیدا ہو جو تعلق عبودیت کار بوبیت سے ہے وہ بہت گہرا تعلق ہے اور انوار سے پُر ہے جس کی تفصیل نہیں ہو سکتی۔جب تک یہ لذت حاصل نہیں ہوتی تب تک انسان بہائم سے ہے۔اگر دو چار دفعہ بھی لذت محسوس ہو جائے تو اس چاشنی کا حصہ مل گیا لیکن جسے یہ لذت دو چار دفعہ بھی نہ ملے وہ اندھا ہے-مـــن كـان فـي هـذه اعمى فهو في الأخرة اعمى - دُعا نہ کرنے میں ہلاکت ہے ۴ جون ۱۹۰۴ء۔فرمایا : نماز اصل میں دُعا ہے۔اگر انسان کا نماز میں دل نہ لگے تو پھر ہلاکت کے لئے طیار ہو جائے، کیونکہ جو شخص دُعا نہیں کرتا وہ گویا خود ہلاکت کے نزدیک جاتا ہے۔دیکھو ایک طاقتور حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے کہ میں دکھیاروں کا دُکھ اُٹھاتا ہوں۔مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔میں بہت رحم کرتا ہوں۔بیکسوں کی امداد کرتا ہوں لیکن ایک شخص جو مشکل میں مبتلا ہے اُس کے پاس سے گذرتا ہے اور اس کی ندا کی پرواہ نہیں کرتا ، نہ اپنی مشکل کا اُس کے آگے بیان کر کے طلب امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہو گا۔خدا تعالیٰ ہر وقت انسان کو آرام دینے کے واسطے طیار ہے بشرطیکہ کوئی اُس سے درخواست کرے۔قبولیت دُعا کے واسطے ضروری ہے کہ انسان نافرمانی سے باز رہے اور بڑے زور سے دُعا کرے کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے تب آگ پیدا ہوتی ہے۔