ذکر حبیب

by Other Authors

Page 85 of 381

ذکر حبیب — Page 85

85 خدا کہنے کے بڑے اور قابل شرم گناہ سے تو بہ کرو۔یہ تو ایسا نا پاک جرم ہے کہ کوئی دنیوی گورنمنٹ بھی اس بات کو گوارہ نہیں کر سکتی کہ کوئی اور ان کی سلطنت میں جھوٹا حاکم بن بیٹھے چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ کی ابدی سلطنت میں کسی کو ایسا کرنے کی جرات ہو۔اگر تم عاجزی اختیار کرو اور انسانوں کا شیوہ اختیار کر کے خاکساری کے ساتھ زمین پر چلو اور خدا کے اس مسیح موعوڈ کو ما نو جو ان دنوں کا مقدس رسول ہے اور جس کا نام حضرت میرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام ہے تو یقیناً خدا تمہیں بہت ہی برکتیں عطا فرما دے گا۔پر اگر تم اپنی ضد سے باز نہیں آتے اور ایک سچے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور اس مقدس رسول محمد واحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے اور اپنے تئیں مسیح اور خدا کہنے پر اصرار کرتے ہو تو پھر فیصلہ کا ایک ہی طریق ہے اور تمام شکوک کے رفع کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم بحیثیت خدا ہونے کے اپنا حکم صادر کرو کہ یہ نبی تمہارے اِس دنیا میں ٹھیرنے کے زمانے کے اندر تمہارے یہاں ہوتے ہوئے مر جائے اور اپنے اس حکم سے ایک چھپی ہوئی چٹھی کے ذریعہ سے اس نبی کو مطلع کر کے اس سے درخواست کرو کہ وہ بھی تمہارے حق میں ایسی ہی دعا کرے کہ تم اس کی زندگی میں مرجاؤ کیونکہ بائیل میں ایسا ہی لکھا ہے کہ جھوٹا نبی مر جائے گا۔ہاں میں یہ نہیں کہتا کہ تم اس مسیح کے حق میں دُعا کرو کیونکہ تم تو خدا ہونے کا دعویٰ کرتے ہو۔اس واسطے تمہیں کسی سے دُعا کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف ایک حکم جاری کرنے کی ضرورت ہے۔پر یہ مسیح موعود تمہارے حق میں اپنے خدا سے دُعا مانگے گا کیونکہ وہ صرف انسان اور خدا کا رسول ہونے کا مدعی ہے لیکن تم کو اختیار ہے کہ اگر تم خدا ہو تو اس کی دُعا کو قبول نہ کرو اور اس طرح یہ مقابلہ بہر حال تمہارے حق میں مفید ہے۔اگر تم اس بات کو اختیار کرو گے تو جھوٹے کی موت تمام مشکل مسائل حل کر دے گی۔مباحثات اور مناظرات مذہبی تنازعات کا کبھی فیصلہ نہیں کر سکتے لیکن یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے تمام دنیا پر روشن ہو جائے گا کہ سچا مذہب کونسا ہے اور آسمان پر پہنچنے کا اور آسمانی برکات کے حصول کا راستہ کیا ہے۔میں ہوں مسیح موعود احمد کا ایک غلام - محمد صادق نوٹ : مسٹر پیٹ نے اس خط کا کچھ جواب نہ دیا لیکن پھر کبھی اُس نے اپنی مسیحیت کا بھی ذکر نہ کیا اور بقیہ عمر خاموشی اور گمنامی میں گذاری۔منہ