ذکر حبیب — Page 49
49 نورالدین صاحب بھی کسی تقریب پر لاہور تشریف لے گئے ہوئے تھے اور اُس رات اُن کا ایک وعظ مسجد گئی والی میں قرار پا چکا تھا۔لیکن لیکھرام کے قتل کے واقعہ کے سبب خلیفہ رجب دین صاحب مرحوم اور بعض دیگر دوستوں کے مشورہ سے وعظ نہ کیا گیا۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب جو اس وقت میڈیکل کالج میں تعلیم پاتے تھے ، اس رات ڈیوٹی پر تھے اور انہوں نے صبح آ کر ہمیں بتلایا کہ کس طرح لیکھر ام زخم کھانے کے بعد ہسپتال میں لایا گیا اور جب ڈاکٹر کے آنے میں دیر ہوئی تو وہ بار بار یہ کہتا تھا۔( ہائے میری قسمت کوئی ڈاکٹر بھی نہیں بوہڑا) کہ ہائے میری قسمت کوئی ڈاکٹر بھی نہیں آیا اور جب دوسرے کام کرنے والے مجھے ( ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو ) مخاطب کرتے اور مرزا صاحب کہ کر بلاتے تو لیکھرام چونک اٹھتا اور آنکھیں کھول دیتا اور پھر ہائے ہائے کرتا۔اُس وقت وہاں ایک انگریز پولیس آفیسر بھی پہنچ گیا تھا اور اُس نے بیان لینے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اُوپر سے انگریز ڈاکٹر آ گیا اور اس نے پولیس آفیسر کو روک دیا اور کہا کہ مجھے اپنا کام پہلے کرنے دو۔چنانچہ وہ مرہم پٹی کر کے چلا گیا۔مگر اس کے بعد لیکھرام کو ہوش نہیں آئی یہاں تک کہ وہ اُسی رات مر گیا۔لیکھرام کے مرنے کی خبر سب سے پہلے چوہدری عبداللہ خان صاحب نے جو کہ اُن دنوں لاہور میں مقیم تھے دوسری صبح قادیان پہنچ کر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی۔چنانچہ اس کا ذکر حضرت صاحب نے اپنی کسی عربی کتاب میں بھی کیا ہے کہ عبداللہ یہ خبر میرے پاس لایا۔واضح ہو کہ عبداللہ خان صاحب رئیس ہر یا نہ ضلع ہوشیار پور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام کے نہایت مخلص خادم اور عاجز کے دوست تھے مگر قیام خلافت ثانیہ کے وقت جو بعض حساد کی وجہ سے افتراق ہوا اس کے سیلاب میں وہ بھی بہ گئے۔اللہ تعالیٰ انہیں پھر ہدایت دے اور شعائر اللہ کی تعظیم کی توفیق بخشے۔۱۸۹۹ احاطہ کچہری میں نماز ۱۸۹۹ء۔غالباً ٹیکس کا مقدمہ تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز ظہر گورداسپور کے احاطہ کچہری میں بعض لوگوں کی درخواست پر خود پیش امام ہو کر پڑھائی اور بہت سے لوگ دوڑ دوڑ کر اُس نماز میں شامل ہوئے۔