ذکر حبیب

by Other Authors

Page 50 of 381

ذکر حبیب — Page 50

50 نماز جمع میں سنتیں معاف غالبا یہ واقعہ مارچ ۱۸۹۹ء کا ہے جبکہ میں لاہور سے چند روز کے واسطے قادیان آیا ہوا تھا۔چونکہ میں اُس کمرے میں ٹھیرایا گیا تھا جو مسجد مبارک اور حضرت مسیح موعود کے کمرے کے درمیان ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نمازوں کے واسطے اُسی کمرے میں سے گذر کر آتے تھے اور اس کے علاوہ بھی کئی دفعہ دروازہ کھولتے اور مجھے کوئی شے کھانے کی دے جاتے ، مثلاً آم یا کوئی اور شے۔عاجز کے حال پر حضور کی نہایت مہربانی اور شفقت تھی۔انہیں ایام میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آج نماز ظہر وعصر ہر دو جمع کر کے پڑھی جائیں گی۔(عموماً ایسی جمع کے دن ظہر کی نماز اپنے وقت سے ذرا پیچھے اور عصر اپنے وقت سے قبل پڑھی جاتی تھی۔یا عصر کو ظہر کے وقت ساتھ ملا لیا جا تا تھا یا ظہر میں دیر کر کے ہر دو نمازیں عصر کے وقت پڑھ لی جاتی تھیں) میں چار رکعت سنت پڑھنے کے واسطے اُسی کمرے میں کھڑا ہوا۔جیسا کہ ظہر کی نماز کے چار رکعت فرض سے قبل سنتیں پڑھی جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ہمیشہ اپنے کمرے میں ہی وضو کر کے اور پہلی سنتیں پڑھ کر مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے مگر پچھلی دو رکعت سنت عموماً مسجد ہی میں پڑھا کرتے تھے اور اس کے بعد تھوڑی دیر کے واسطے و ہیں مسجد میں خدام کی ملاقات اور بات چیت کے واسطے بیٹھ جایا کرتے تھے۔غرض میں چار رکعت سُنت کی نیت کر کے ابھی کھڑا ہی ہوا تھا اور چند احباب اور بھی کمرے میں تھے کیونکہ مسجد مبارک میں کمی گنجائش کے سبب بعض احباب ساتھ کے کمروں میں نماز میں شامل ہو جاتے تھے۔حضرت صاحب نے مسجد جانے کے واسطے دروازہ کھولا۔جب میرے پاس سے گذرنے لگے اور مجھے سنتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا نماز جمع ہوگی سنتوں کی ضرورت نہیں۔یہ فرما کر آگے کو بڑھے اور پھر پیچھے پھر کر دیکھا کہ میں نماز میں مشغول تھا تو پھر فرمایا کہ نماز جمع ہوگی سنتیں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔یہ فرما کر مسجد کے اندر داخل ہو گئے اور میں نے کھڑے کھڑے سلام پھیر دیا اور سنتیں نہیں پڑہیں۔جتنے آدمی کمرے میں موجود تھے اُن سب پر اس بات کا خاص اثر ہوا کہ حضرت صاحب نے نماز کے جمع ہونے کے وقت سنتوں کا پڑھا جانا پسند نہیں فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہاں تک میں نے دیکھا ہے سفر میں ہمیشہ نماز جمع کرتے تھے۔ظہر کو عصر کے ساتھ ، یا ظہر کے ساتھ عصر کو جمع کرتے ، یا ہر دو کے درمیان کے وقت میں دونوں کو اکٹھا پڑھتے اور ایسا ہی مغرب اور عشاء کو جمع کرتے۔جب کبھی حضرت صاحب کو تصنیف کا کام بہت ہوتا یا