ذکر حبیب

by Other Authors

Page 21 of 381

ذکر حبیب — Page 21

21 داری کے کاموں اور سرکاری ملازمت کے مشاغل سے اُکھڑ گئی اور مجھے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں ملا زمت کو ترک کر کے قادیان میں ہی آ رہوں اور کسی دینی خدمت کو سرانجام دیا کروں۔غالباً ۱۸۹۸ء میں جبکہ میں لاہور کے محلہ مزنگ نام میں رہتا تھا کیونکہ وہ جگہ دفتر کو ٹمٹ جنرل کے قریب تھی، میں نے سب سے پہلے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں یہ درخواست تحریری بھیجی کہ مجھے اجازت دی جاوے کہ میں اپنی موجودہ ملازمت کو ترک کر کے اور ہجرت کر کے قادیان آ جاؤں۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے مجھے لکھا کہ مومن کے واسطے قیام فیما اقام اللہ ضروری ہے۔یعنی جہاں اللہ تعالیٰ نے اس کو کھڑا کیا ہے اور اس کے لئے روزی کا سبب بنایا ہے، و ہیں صبر کے ساتھ کھڑا ر ہے۔یہاں تک کہ کوئی سبب آپ کے لئے ایسا بنے کہ آپ کو کسی کام کے واسطے قادیان بُلا لیا جائے۔لیکن چونکہ آپ نے ہجرت کا ارادہ کر لیا ہے اس واسطے آپ کو اس کا ثواب ہر حال ملتا رہے گا۔اس کے بعد ۱۹۰۰ء کے آخر میں جبکہ قادیان کا مڈل سکول ہائی سکول بن گیا اور ایک سیکنڈ ماسٹر کی ضرورت ہوئی تو چونکہ یہ عاجز مدرسی کے کام میں تجربہ رکھتا تھا، اس واسطے سکول کے ناظموں کو میری طرف توجہ ہوئی کہ مجھے قادیان بلا لیا جاوے اور مولوی محمد علی صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کر کے میرے قادیان آ جانے کے متعلق اجازت حاصل کی۔حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ فی الحال دفتر سے تین ماہ کی رخصت لے کر آ جائیں۔چنانچہ میں نے واپس لاہور آ کر تین ماہ کی رخصت کے لئے درخواست دی۔مگر اس میں یہ الفاظ بھی لکھ دیئے کہ اگر مجھے رخصت نہیں مل سکتی تو میرا استعفا منظور کیا جاوے۔اس کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب کو جب یہ معلوم ہوا تو انہوں نے قادیان میں اس امر کی مخالفت کی اور حضرت صاحب سے عرض کیا۔کہ جس دفتر میں مفتی صاحب اس وقت ملا زم ہیں وہاں آئندہ ترقیوں کی بہت سی امیدیں اور مواقع ہیں۔اس دفتر میں ملازمت کر نے والے بعض کلرک ای - اے۔سی بن جاتے ہیں اور بعض اور معزز عہدوں پر پہنچ جاتے ہیں۔مفتی صاحب کو وہاں سے ہٹا نا ٹھیک نہیں۔اُن کے وہاں رہنے میں نہ صرف اُن کو ذاتی فوائد ہوں گے بلکہ بہت سے قومی فوائد بھی اُن سے حاصل ہوں گے۔اس پر حضرت صاحب نے مجھے ایک حکم بھیجا کہ آپ استعفے نہ دیں۔ہاں آسانی سے رخصت مل جائے تو رخصت لے کر یہاں چلے آئیں۔یہ رقعہ لے کر شیخ عبدالعزیز صاحب مرحوم جو قادیان سے اس غرض کے واسطے لاہور بھیجے گئے تھے سحری کے وقت میرے پاس پہنچے۔اُس وقت میں اور ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب جو میڈیکل کالج کے پہلے سال میں