ذکر حبیب — Page 257
257 گیارھواں باب عاجز راقم پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نظرِ شفقت مجھے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق الہام ہوا۔اِمَامًا وَنِعْمَةً - غالباً ۱۹۰۵ء میں ( حضور میرے امام تھے۔اور میرے لئے بڑی نعمت تھے۔روحانی اور جسمانی انعامات مجھے حضور سے حاصل ہوتے رہتے۔ایک دفعہ جبکہ میں بہت بیمار ہو گیا۔19ء کا واقعہ ہے۔اور میری والدہ مرحومہ بھی یہاں تشریف لائی ہوئی تھیں۔انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر میری صحت کے لئے دُعا کے واسطے تحریک کی۔حضور نے فرمایا کہ ہم تو ان کے لئے دُعاء کرتے ہی رہتے ہیں۔آپ کو خیال ہوگا کہ صادق آپ کا بیٹا ہے۔اور آپ کو بہت پیارا ہے۔لیکن میرا دعوی ہے کہ وہ مجھے آپ سے زیادہ پیارا ہے۔خطبہ الہامیہ کو یاد کرنا جب حضرت صاحب نے خطبہ الہامیہ پڑھا تو حضور نے فرمایا کہ بعض نو جوان اس کو یا دکر لیں۔چنانچہ حافظ غلام محمد صاحب ( مبلغ ماریشس ) نے اس کا بہت سا حصہ یاد کیا۔عاجز نے بھی چند سطریں یا د کیں۔اور ایک شام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں حضور کے فرمانے سے کھڑے ہوکر سُنا ئیں۔ایک دفعہ جب میں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا۔پچھلی رات کو تھوڑی سر دی ہو جایا کرتی تھی۔حضرت صاحب نے مجھے خادم لڑکے کے ہاتھ دو کپڑے بھیجے۔ایک گرم پشمینہ کی چادر اور ایک روئی دار ڈلائی ( جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تھی ) اور کہلا بھیجا۔ان میں سے جو ایک پسند ہو رکھ لیں ، یا دونوں رکھ لیں۔میں نے ڈلائی رکھ لی اور چادر واپس کی۔اس خیال سے کہ چادر بہت قیمتی تھی اور نیز اس خیال سے کہ دلائی صاحبزادہ صاحب کی مستعملہ تھی۔وضو کے واسطے پانی لا دیا ایک دفعہ میں وضوء کے واسطے پانی کی تلاش میں لوٹا ہاتھ میں لئے اُس دروازے کے اندر