ذکر حبیب — Page 191
191 ایس دُعائے شیخ مگر یہ حالت خدا کی طرف سے آتی ہے۔انسان کے اختیار میں کچھ نہیں۔دُعا ء حق ہے۔اس میں انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی چادر کے نیچے مخفی ہو جاتا ہے۔عبودیت کو ربوبیت کے ساتھ قدیم سے ایک رشتہ ہے۔جس کا نام خلافت ہے الہام الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام - ۱۸/ اپریل ۱۹۰۱ء سال دیگر را که می داند حساب تا کجا رفت آنکه با ما بود یار پختہ قبر " سوال ہوا۔کیا قبر کا پختہ کرنا جائز ہے۔فرمایا ”نیت پر منحصر ہے۔مثلاً بعض جگہ سیلاب آنے سے قبریں بہ جاتی ہیں۔بعض جگہ بجو اور گئے قبروں سے مُردے نکال لیتے ہیں۔اگر ایسے وجوہ پیش آجائیں۔تو پختہ کر دینا مناسب ہے۔کیونکہ میت کے لئے بھی ایک عزت ہے۔نمود کے واسطے گنبد بنانا جائز نہیں۔مگر حفاظت ضروری ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے گرد پختہ عمارت ہے۔ایسا ہی بعض اولیاء اور صلحاء کی قبریں بھی پختہ ہیں۔الہی مصلحت نے ان کے لئے یہی چاہا اور ایسے ہی اسباب مہیا ہو گئے۔بیعت کی ضرورت فرمایا ”ہما را بیعت لینا عام صوفیاء کی طرح نہیں۔بلکہ ہم نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔ہم امرالہی سے بیعت لیتے ہیں شخصی تدبیر فرمایا انبیاء کا قاعدہ ہے کہ وہ شخصی تدبیر نہیں کرتے۔بلکہ نوع کے پیچھے پڑتے ہیں۔تا کہ جماعتوں کی جماعتیں ہدایت پائیں۔اور سلسلہ حقہ میں داخل ہوں۔شخصی تدبیر چنداں کا میاب نہیں ہوتی۔جس میں مبلغ کسی خاص آدمی کے پیچھے پڑا ر ہے کہ اسی کو ضرور ہدایت ہو جائے۔“