ذکر حبیب — Page 187
187 مَا شِئْتَ۔فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ۔قُلْتُ اَجْعَلُ لَكَ صَلوتِي۔كُلَّهَا قَالَ إِذَا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرَ لَكَ ذَنْبُكَ۔هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ۔(جامع ترمذی) ترجمہ : حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم رات کا دو تہائی حصہ گذر چکنے کے وقت اٹھ کر اپنے گھر والوں اور اردگرد کے لوگوں کو نماز تہجد کے لئے جگا کر انہیں فرمایا کرتے تھے کہ اے لوگو اللہ کو یاد کرو۔اللہ کو یاد کر لو۔وہ ہولناک زلزلہ آور ) گھڑی سر پر آ پہنچی ہے۔جس کے بعد ساتھ ہی سردی ( اور بھی زیادہ ہولناک) گھڑی آ جائے گی۔موت مع اُن آفات کے جو اس کے آنے کے ساتھ آ جاتی ہیں۔سر پر آ پہنچی ہے۔ہاں وہ موت مع اپنے ساتھ کی آفات کے بس آہی پہنچی ہے۔(اس حدیث کے راوی) ابی کہتے ہیں۔میں نے (ایک رات حضور کے جگانے پر اٹھ کر ) عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی دعا کا ایک بہت بڑا حصہ حضور کے لئے مخصوص کر دیا کرتا ہوں۔( مگر بہتر ہو کہ حضور ارشادفرماویں کہ ) میں ا اپنی دعا کا کتنا حصہ حضور کے لئے مخصوص کیا کروں۔فرمایا جتنا چاہو۔میں نے عرض کیا ایک چوتھائی ؟ فرمایا جتنا چاہو اور اگر اس سے بھی زیادہ (حصہ میرے لئے مخصوص کیا کرو۔تو زیادہ بہتر ہوگا۔میں نے عرض کیا۔نصف حصہ؟ فرمایا جتنا چاہو اور اگر اس سے بھی بڑھا دو تو اور بھی بہتر ہوگا۔میں نے عرض کیا۔دو تہائی؟ فرمایا جتنا چاہو۔اور اگر اس سے بھی زیادہ کر دو۔تو اور بھی بہتر ہوگا۔میں نے عرض کیا کہ میں آئندہ اپنی تمام دعا کو حضور کے لئے ہی مخصوص رکھا کروں گا۔فرمایا۔اس میں تمہاری سب ضرورتیں اور حاجتیں آ جائیں گی اور اللہ تعالیٰ تمہارے سارے کام درست کر دے گا۔اور تمہاری مرادیں پوری کر دے گا اور کو تا ہیاں معاف کر دے گا۔تزکیه نفس ۱۸۹۹ ء کا ذکر ہے۔عاجز ان دنوں لاہور میں ملازم تھا۔کسی رخصت کی تقریب پر حضور مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔فرمایا قرآن شریف میں آیا ہے۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا۔اُس نے نجات پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔تزکیہ نفس کے واسطے صحبت صالحین اور نیکوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنا بہت مفید ہے۔جُھوٹ وغیرہ اخلاق رذیلہ دُور کرنے چاہئیں اور جو راہ پر چل رہا ہے۔اُس سے راستہ پوچھنا چاہئیے۔اپنی غلطیوں کو ساتھ ساتھ درست کرنا چاہیے۔جیسا کہ غلطیاں نکالنے کے بغیر املاء درست نہیں ہوتا۔ویسا ہی غلطیاں نکالنے کے بغیر اخلاق بھی درست نہیں ہوتے۔آدمی ایسا جانور ہے کہ اس کا تزکیہ ساتھ ساتھ ہوتا رہے۔تو سیدھی راہ پر چلتا ہے۔ورنہ بہک جاتا ہے۔66