ذکر حبیب — Page 188
188 پورانی نوٹ بک ۱۹۰۰ء فرمایا’ یہ ہیکل بدنی خدا کے واسطے بنائی گئی ہے۔اس کو خراب نہ کرو۔اس کو پاک صاف کرو۔انسان کا دل ملائکہ کے نزول کی جگہ ہے۔“ فرمایا ” انسان کا دل بیت اللہ ہے۔“ فرمایا ” جو چیز مرکب ہوتی ہے۔وہ عالم خلق سے ہے۔اور جو غیر مرکب ہو وہ عالم امر سے ہے۔عرش عالم امر سے ہے۔روح ( کلام الہی ) بھی عالم امر سے ہے۔“ فرمایا ” کوئی شخص دُنیا سے نہیں جاتا مگر حسرت کے ساتھ۔مر د کامل کو یہ حسرت ہوتی ہے 66 کہ کاش ایک اور دینی خدمت ہو جاتی۔“ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا ایک دستی خط جو اسی نوٹ بک پر انہوں نے غالبا لا ہور کے احمدی احباب کے نام پنسل سے لکھا تھا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔میں کئی روز بہت بیمار رہا۔صحت خراب ہوگئی ہے۔تین روز ہوئے بشیر محمود کو سخت بخار ہوا۔فرمایا۔میں نے دُعا کرنے کا ارادہ کیا۔تو میرے دل میں آیا کہ آپ ( مجھے مخاطب کر کے فرمایا ) بیمار ہیں۔اور مولوی نورالدین صاحب بھی بیمار ہیں۔پھر تینوں کے لئے دُعا کی۔الہام ہوا۔لِلاتباع والاولاد - یعنی تیری اولا داور تیرے پیروؤں کے حق میں تیری دعائنی گئی۔شیخ نور احمد صاحب ڈاکٹر کا بیٹا سخت بیمار ہو گیا۔ام الصبیان کا دورہ ہو گیا۔حالت یاس کی پیدا ہوگئی۔حضرت نے دُعاء کی۔الہام ہوا۔انا اللہ ذوالمنن لڑکا اچھا ہو گیا۔شیخ صاحب کو مبارک باد دے دیں۔برادران ایسا رحیم دعاء گو اور شفیع دُنیا میں کوئی اور بھی ہے؟ مبارک ہے۔وہ جو اُس کے فتراک سے وابستہ ہو۔سلام برادران کو۔عبدالکریم ۶ نومبر۔فرمایا ”مسلمانوں میں بھی اب لوگ ذات اور قومیت کا تکبر کرتے ہیں۔میں اس قومیت کی ہیکل کو بھی توڑ نا چاہتا ہوں۔مجھے اس سے دشمنی ہے۔فرید الدین عطار نے لکھا ہے کہ سادات میں سے اولیاء کم ہوئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں رعونت اور تکبر چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ہماری قوم مغل ہے۔اور لوگ اس کا بھی تکبر کرتے ہیں۔مگر خدا نے ہمارے لئے اس لفظ کی ہی تکذیب کر دی ہے کیونکہ بذریعہ وحی الہی ہمیں ابناء فارس کہا گیا ہے۔رد عليه رجلٌ مِن اهل فارس - الفارس من اهل بيتي۔سلمان رجلٌ من اهل بيت۔