ذکر حبیب — Page 152
152 حاصل کرتے ہیں۔وہ اصحاب رسول میں سے ہیں۔“ " (۴۰) دُعا کرنا موت اختیار کرنے کے برابر فرمایا کرتے تھے اکثر لوگ دُعا کی اصل فلاسفی سے ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ دُعا کے ٹھیک ٹھکانہ پر پہنچنے کے واسطے کس قدر توجہ اور محنت درکار ہے۔دراصل دُعا کرنا ایک قسم کی موت کا اختیار کرنا ہوتا ہے۔(۴۱) دُعا علیحدگی میں فرمایا کرتے تھے جب خوف الہی اور محبت غالب آتی ہے تو باقی تمام خوف اور محبتیں زائل ہو جاتی ہیں۔ایسی دُعا کے واسطے علیحدگی بھی ضروری ہے۔اسی پورے تعلق کے ساتھ انوار ظاہر ہوتے ہیں اور ہر ایک تعلق ایک ستر کو چاہتا ہے۔“ (۴۲) معجزہ نمائی فرمایا کرتے تھے ”ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے دعوی کرتے ہیں اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں مبعوث کیا بیقرآن کریم میں جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء کے مذکور ہوئے ہیں۔ان کو خود دکھا کر قرآن شریف کی حقانیت کا ثبوت دیں۔ہم دعوی کرتے ہیں کہ اگر دُنیا کی کوئی قوم اپنی کوششوں سے ہمیں آگ میں ڈالے یا کسی اور خطرناک عذاب اور مصیبت میں مبتلاء کرنا چا ہے۔تو خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق ضرور ہمیں محفوظ رکھے گا لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم خود آگ میں کو دتے پھریں۔یہ طریق انبیاء کا نہیں۔“ قرآن شریف میں جس قدر معجزات مذکور ہیں۔ہم ان کے دکھانے کو زندہ موجود ہیں۔خواہ قبولیت دعا کے متعلق ہوں خواہ اور رنگ کے معجزہ کے منکر کا یہی جواب ہے کہ اُس کو معجزہ دکھایا جائے۔اس سے بڑھ کر اور کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔“ (۴۳) مومنوں کے اقسام فرمایا کرتے تھے ایمان لانے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو چہرہ دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔دوسرے وہ جو نشان دیکھ کر مانتے ہیں۔تیسرا ایک ارزل گروہ ہے کہ جب ہر طرح سے غلبہ حاصل ہو جاتا ہے اور کوئی وجہ ایمان بالغیب کی باقی نہیں رہتی تو اس وقت ایمان لاتے ہیں۔جیسے کہ فرعون جب غرق ہونے لگا تو اُس نے اقرار کیا۔“ (۴۴) اُسوہ شہادت فرمایا کرتے تھے عبد اللطیف صاحب نے ایک اُسوہ حسنہ چھوڑا ہے جس کی اتباع