ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 49
49 پہنچتی ہے اور جہاں پہنچ کر ٹھرتی ہے وہاں ان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ابھی تم نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔اس سے پرے علم کے اور بھی جہان ہیں۔پس نہ صرف یہ کہ وہ نظر رکھتے ہیں بلکہ نظر کے اندر عمق رکھتے ہیں گہرائی رکھتے ہیں اور پھر بھی خدا تک نہیں پہنچتے لا تدركهُ الْأَبْصَارُ، وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارُ (الانعام : ۱۰۴) قرآن کریم فرماتا ہے کہ تمہاری آنکھیں، تمہاری بصارت خدا تک نہیں پہنچ سکتی وَهُوَ يُدَرِكَ الأبصار ہاں وہ ہے جو تمہاری قوت اور اک تک پہنچتا ہے۔کتنا عظیم الشان نکتہ اس میں بیان فرما دیا گیا اور امر واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالی کی عظمت و لطافت اور اس کا اعلیٰ ہونا اور اس کا عظیم ہونا اور اس کا اکبر ہوتا یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو انسانی حواس خمسہ کو نا کام کر دیتی ہیں کہ انسان محض ان کے زور سے خدا کی عظمت کو پائے اس کے علو کو پالے اس کی کبریائی کو پالے اور اس کی ذات کی گہرائی تک اتر سکے۔پس سطحوں تک جا کر ہمارے جو اس ٹھہر جاتے ہیں، اس کے بعد پھر اِيَّاكَ نَسْتَعِین کا دور شروع ہوتا ہے۔ایاک نعبد ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ چیز جو ہمیں بظاہر دکھائی دے رہی ہے یہ بڑی پیاری ہے لیکن اس کے پیچھے کوئی اور ذات چھپی ہوئی ہے، پس ہم اس کی عبادت کریں۔جب اس کی عبادت کرتے ہیں اور حمد کو اس کے ساتھ ملاتے ہیں تو پھر وہ ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ حمد کی توفیق بھی اسی سے ملتی ہے۔پس ايَّاكَ نَستَعین پر یہ مضمون مکمل ہو جاتا ہے۔پس جو اس خمسہ کے ذریعے آپ کو شش کریں لیکن ساتھ یہ دعا کرتے رہیں کہ اے اللہ تعالی ! اے خدا !! تو ہمارے حواس خمسہ پر نازل ہو۔ان پر جلوہ فرما کیونکہ جب تک تو اپنی صفات کا جلوہ ہم پر نہیں فرماتا اس وقت تک ہم دیکھتے ہوئے بھی دیکھنے سے محروم رہیں گے۔ہم سنتے ہوئے بھی سننے سے محروم رہیں گے۔ہم چکھتے ہوئے بھی چکھنے سے محروم رہیں گے اور اپنی کسی جس کے ذریعے بھی تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔عجز کی طاقت مومن جب اس عجز کے مقام پر فائز ہوتا ہے تو پھر اِيَّاكَ نَعْبُدُ کی دعا میں ایک طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔عجز میں ایک طاقت اور کبر میں ناطاقتی پائی جاتی ہے۔۔جب