ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 442
442 مقصور کی زندگی میں تم نے سینکڑوں اور بت بنائے ہوئے ہیں اس لئے دعاؤں میں اثر کے لئے نیک اعمال کی بھی ضرورت ہے اور اگر کامل نیک اعمال نہ بھی ہوں تو نیک نیتی کے ساتھ نیک اعمال کی کوشش کرنے کا بہت بڑا دخل ہے دعاؤں میں۔انسان عاجزی کے ساتھ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ اے خدا میں گنہگار ہوں، مجھ سے بہت ہی بدیاں سرزد ہوتی ہیں۔میں بار بار گناہوں میں متبلا ہوتا ہوں لیکن میرا دل تیرا احترام کرتا ہے۔میرا دل تجھ سے محبت کرتا ہے۔میں جانتا ہوں تیرے سوا کوئی نہیں جو مجھے بچا سکے۔یہ التجا اگر درد سے کی جائے تو اللہ تعالی بہت غفور رحیم ہے۔وہ گناہوں سے پردہ پوشی بھی فرماتا ہے۔ان کی بخشش بھی فرماتا ہے لیکن دل کی آخری تمنا خدا ہونا چاہئے۔اس کا معنی ہے۔الہ آخری تمنا آخری مدعا آخری " خدا ہونا چاہئے اگر یہ ہو جائے تو پھر آپ کی یہ دعا غیر معمولی طاقت کے مظاہرے دکھائے گی۔الہ الناس میں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو تمام بنی نوع انسان کا ایک ہی معبود ہے اور کوئی معبود نہیں ہے۔مِنْ شَرِّ الْوَسْوَا مِنَ الْخَنَّاسِ : کس چیز سے پناہ مانگ رہا ہوں ہر قسم کے وسوسوں سے۔وسواس کہتے ہیں وسوسے پھیلانے والوں کو۔عام طور پر وسوسوں سے نجات پانے کے لئے دعا مانگی جاتی ہے مگر لفظی ترجمہ اس کا یہ ہے۔" من شر الوسوا میں ایسے وسوسے پیدا کرنے والے کے شر سے جو الخناس بھی ہے یعنی خاموشی سے شرارت سے وسوسے پیدا کر دیتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے اور بسا اوقات آپ کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ کس بدنیتی کے ساتھ آپ کے دل میں ایک شک کا بیج ہو گیا ہے۔الذي يوسون في صدور الناس ایک ایسا دور آنے والا ہے جبکہ یہ ختماس تمام دنیا میں خدا کے خلاف اس کی ربوبیت کے خلاف اس کی الوہیت اور ملکیت کے خلاف وسوسے پھیلانا شروع کرے گا اور آج کا یہ وہ دور ہے جس دور میں سے ہم گزر رہے ہیں کیونکہ آج کی دنیا میں ایسے فلسفے پیدا ہو چکے ہیں جو خدا کو رب نہیں بتاتے بلکہ دنیا کے طاقتور ملکوں کو رب بناتے ہیں اور ان سے احتیاج کا تصور اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ ہر حاجت کے وقت سب سے پہلے بڑی طاقتیں ذہن میں آتی ہیں کہ فلاں سے