ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 380
380 اتنا ہی ہے اور اتنا ہی ہمارے لئے کافی ہے کہ وہ آگ تھی۔خواہ وہ ظاہر کی آگ تھی خواہ وہ مخفی آگ تھی۔معنوی طور پر آگ تھی۔اللہ تعالٰی نے اس آگ سے آپ کو بچا لیا اور آگ جلانے والوں کو نا کام کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بھی ایک الہام ہوا۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے" ظاہری طور پر بھی کیا یہ درست ہے ؟ ہم نے ہا رہا دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کی بار بار کی ان کوششوں کو ناکام کر دیا کہ احمدیوں کو زندہ آگ میں جلائیں۔ابھی حال ہی میں پیچھے پاکستان میں دو احمدی بستیوں کو جلا کر خاک کر دیا گیا لیکن غیر معمولی طور پر اور حیرت انگیز اعجازی رنگ میں اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو اس آگ سے بچا لیا۔ایک دفعہ مولانا رحمت علی صاحب مرحوم و مغفور جو انڈونیشیا میں مبلغ تھے۔وہ جن دنوں میں وہاں مبلغ تھے ان دنوں میں بہت مخالفت تھی۔مجھے اب جگہ کا نام یاد نہیں مگر وہ جس جگہ بھی تھے شدید مخالفت تھی اور وہاں بڑے بڑے مناظرے ہوا کرتے تھے۔ایک دفعہ کسی کی شرارت سے نہیں بلکہ حادثہ اس بلاک کو آگ لگ گئی۔(لکڑی کے اکثر مکان وہاں ہوتے ہیں) جس کے ایک طرف حضرت مولوی رحمت علی صاحب کا مکان تھا اور ساتھ ہی بہت تیز آندھی چلی اور اس رخ پر چلی جس رخ پر آپ کا مکان تھا۔اس وقت سب لوگ اکٹھے ہو گئے۔باقاعدہ ایک جمگھٹ ہو گیا۔لوگ اپنے اپنے گھروں سے چھلانگیں مارمار کر نکل رہے تھے۔سامان نکال رہے تھے۔احمدی بھی وہاں آئے اور مولوی صاحب کو کہا کہ نکلیں اس گھر سے۔ختم کریں۔آگ آپ کے پاس آرہی ہے تو اس وقت مولوی صاحب نے اس الہام کا حوالہ دے کر خدا سے دعا کی کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے آقا ! میں مسیح موعود کا غلام ہوں آپ کی غلامی میں یہاں پیغام دینے آیا ہوں۔اس لئے آج اس الہام کو میرے حق میں سچا کر دے۔آج تک انڈونیشیا کے وہ لوگ عش عش کرتے ہوئے لکتے ہوئے اور روحانی وجد کے ساتھ یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں آگ بڑھتی رہی۔بڑھتی رہی۔